خطبات محمود (جلد 8) — Page 24
24 جن کا خرچ مسلمان برداشت کرتے ہیں۔اسی طرح پادری ہیں۔پادری کا کیا کام ہوتا ہے۔وہ بعض رسوم بجا لاتا ہے۔عیسائی لوگ لاکھوں روپیہ ان کے اخراجات کے لئے اپنے اوپر ڈالتے ہیں۔اس خیال سے کہ وہ اگلے جہان میں دکھ سے بچ جائیں۔اگر غور سے دیکھا جائے تو دنیا کا بہت سا مال اس غرض کے لئے خرچ کیا جاتا ہے۔لیکن جہاں یہ خواہش کی جاتی ہے کہ لوگ دکھ سے بچ جائیں وہاں اس کے صحیح طریقوں کے استعمال میں لوگ غفلت کرتے ہیں۔یہ خواہش تو ایک علم ہے۔اس سے پتہ لگ جاتا ہے مگر خالی پتہ لگ جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔دیکھو ایک انسان کو بخار چڑھ جائے اور اس کو پتہ لگ جائے کہ بخار ہے تو کیا اس سے اس کا بخار اتر جائے گا۔یا کسی کو کھانسی ہو جائے تو کیا اس کے پتہ لگ جانے سے کھانسی دور ہو جائے گی۔یا کسی کو زخم لگ جائے تو کیا اس کو پتہ لگ جانے سے اس کا زخم اچھا ہو جائے گا۔پتہ لگ جانے سے فائدہ نہیں ہوتا۔اس سے تو فائدہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کا علاج کرانا چاہیے۔مثلاً پاگل ہیں۔کوئی پاگل اپنا علاج کرانے نہیں جاتا۔کبھی تم نے نہیں دیکھا ہو گا کہ کوئی پاگل اپنا علاج کرائے۔پاگل تو کہتے ہی ان کو ہیں جن کو بیماری کا پتہ نہ ہو۔سو اننا فائدہ تو ہو گا کہ انسان طبیب کے پاس جائے گا۔لیکن محض پتہ لگنے سے بیماری اچھی نہیں ہوگی۔بیماری تبھی اچھی ہوگی جب اس کا علاج کیا جائے گا۔پتہ لگ جانے کے بعد دوسرا قدم یہ ہوتا ہے کہ بیماری کا علاج کرایا جائے۔اگر یہ پتہ لگ جائے کہ بخار ہے تو دوسرا قدم یہ ہوگا کہ کونین سے بخار اتر جاتا ہے۔لیکن اس سے بھی بخار اتر نہیں جائے گا۔اگر ایسا ہو تو ڈاکٹر بیمار ہی نہ ہوں۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ان کی بیماری کا علاج درست نہ ہو تو بیماری بڑھ بھی جاتی ہے اور مر بھی جاتے ہیں۔سو خالی پتہ لگ جانے سے بیماری اچھی نہیں ہو جاتی نہ بیماری کا علاج معلوم ہونے سے وہ دور ہو جاتی ہے۔پہلے یہ معلوم ہو کہ بیماری ہے پھر یہ معلوم ہو کہ علاج کیا ہے۔اور صحیح علاج کیا ہے اور پھر علاج میسر ہو اور پھر علاج کیا جائے۔تب بیماری اچھی ہوتی ہے۔لیکن جہاں لوگ جسمانی بیماریوں کے متعلق سوچ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے تشخیص کرالو اور اس پر بڑا زور دیتے ہیں۔نبض دکھانے کے بعد پوچھتے ہیں اور ان کی تسلی نہیں ہوتی جب تک کہ۔بیماری کا پورا پتہ نہ لگ جائے۔بعض لوگ خلیفہ اول کے پاس آتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ہماری بیماری کیا ہے مگر بعض بیماریاں ایسی باریک ہوتی ہیں جن کا مریض کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے آپ بعض دفعہ ناراض ہوتے تھے۔سو یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ بیماری کا پتہ لگائے۔لیکن روحانی بیماریوں کے متعلق لوگوں کو یہ فکر نہیں ہوتی۔کسی کے دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہو تا کہ بیماری کیا ہے۔جسمانی بیماریوں کے متعلق پوچھ لیتے ہیں۔مگر روحانی امراض کے متعلق نہیں