خطبات محمود (جلد 8) — Page 225
225 کیا گیا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کو یہی الہام ہوا۔پس کبیر اور صغیر حجم کے لحاظ سے ہے۔ورنہ وہ سب کچھ نبی میں ہوتا ہے۔جو امت میں پایا جاتا ہے۔پس انبیاء عالم صغیر ہیں اور وہ اپنی امت کے لئے آئینہ کی طرح ہوتے ہیں۔نبیوں کے مدارج آئندہ ان کی امت میں پائے جاتے ہیں اور انہی میں ان کا ظہور ہوتا ہے اور جو اس نبی سے تعلق قطع کر لیتے ہیں وہ ان مراتب اور مدارج سے محروم ہو جاتے ہیں۔پس ہر ایک امت جو قائم کی جاتی ہے یا جو کسی مامور کے ذریعہ اصلاح حاصل کرتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو سوچے کہ ہمارے نبی یا مامور کے کیا نام رکھے گئے ہیں کیونکہ وہ نام ہمارے اندر وسیع طور پر ظہور کریں گے۔نبی میں وہ بیج کی طرح ہوتا ہے مگر ہم میں درخت کی طرح ہوگا یہاں بھی یہ نکتہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ بیج میں بھی جو قوت نامیہ ہوتی ہے وہ درخت میں نہیں ہوتی۔اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ بیچ درخت کے مقابلہ میں ادنی ہے۔اصل بیج ہی ہوتا ہے اور وہ پھیل کر درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اسی طرح دیکھو دریا کا پاٹ جہاں زیادہ چوڑا ہوتا ہے وہاں بہاؤ کمزور ہوتا ہے۔اور جہاں تنگ ہوتا ہے وہاں زور کا ہوتا ہے۔وجہ یہ کہ چوڑی جگہ میں پانی پھیلا ہوا ہوتا ہے اور تنگ جگہ اکٹھا ہوتا ہے اور طاقت زیادہ جمع ہوتی ہے۔اسی طرح نام یا صفت جس سے کوئی مامور اور نبی مخاطب کیا جاتا ہے۔جب نبی کی ذات میں ہوتی ہے تو پوری قوت سے ہوتی ہے۔گو پیمانے کے لحاظ سے مختصر ہو مگر قوت میں زیادہ ہوتی ہے۔اور امت میں چونکہ وہ صفت پھیل جاتی ہیں۔اس لئے اس میں زیادہ وسعت ہو کر مقابلہ کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔تم کو یہ غور کرنا چاہئیے کہ جس نام سے اس نبی کو مخاطب کیا گیا جس نے تمہاری اصلاح کی ہے۔اس سے خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ تم وہ صفات اپنے اندر پیدا کرو۔جو اس نام میں پائی جاتی ہیں۔میں نے جو یہ کہا ہے کہ خدا کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ نبی کی امت کے لوگ اس کی صفات کے مظہر بنیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نبی کی مختلف صفات کا مظہر مختلف لوگوں کو بناتا ہے۔اور ان میں وہ صفات مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتے ہیں کسی حصہ امت کو کسی صفت کا مظہر بنا تا ہے اور کسی کو کسی حصہ کا۔یوں تو خدا یہی چاہتا ہے کہ سب ان صفات کے مظہر بن جائیں۔نہیں جو وعدے کسی مامور سے ہوتے ہیں وہ کچھ کسی حصہ میں پورے ہو جاتے ہیں اور کچھ دوسرے حصہ میں۔اور ایک جماعت ان وعدوں کی مظہر ہو جاتی ہیں گو خدا تو چاہتا ہے کہ سب مظہر بن جائیں مگر سب نہیں ہوتے۔ہاں اسی نبی کی جماعت کا کوئی نہ کوئی حصہ ان وعدوں کا مظہر اور حامل ضرور ہوتا ہے اگر نہ ہو تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ خدا نے عبث طور پر اس کا وہ نام رکھ دیا۔جس کا مصداق کوئی نہیں ہونا تھا۔مگر جو نام خدا تعالیٰ کسی نبی کے رکھتا ہے ان کے مظہر ضرور بناتا ہے۔اور ہر ایک نبی کی جماعت کا فرض ہے کہ اس بات پر غور کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم