خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 220

37 37 220 اذان سے سبق (فرموده ۱۳ اکتوبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔دنیا میں جتنے کام قوموں سے تعلق رکھتے ہیں ان کو قومیں ہی کر سکتی ہیں۔ایک آدمی ان کاموں کو پورا نہیں کر سکتا۔ایک آدمی ایک ہی آدمی کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔دنیا میں کوئی آدمی دو آدمیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔شائد کوئی شخص غلطی سے یہ کہدے کہ ایک آدمی کیوں نہیں دو آدمیوں کا بوجھ اٹھا سکتا۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ ایک طاقتور انسان ہوتا ہے وہ دو آدمیوں کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ہم کہتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں بعض طاقتور ہوتے ہیں اور بعض کمزور ہوتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خاص کمزوری اور طاقت پر مدار اور معیار نہیں رکھا جاتا بلکہ اصل معیار عام انسانی طاقت ہے۔جب کبھی کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو حقیقی معیار کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے اور حقیقی معیار کے مطابق جو آدمی بھی کسی کام کے لئے مقرر ہوگا اس کے لئے اسی کی طاقت کے مطابق ہی کام مقرر ہو گا۔جب ایک طاقتور آدمی کسی کام کے لئے مقرر کیا جاتا ہے تو اسے اپنی طاقت کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔پھر کیا کوئی ایسا انسان ہے جو اپنی طاقت سے دگنا کام کر سکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک آدمی دس سیر بوجھ اٹھا سکتا ہے اور دوسرا ایک من لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چار آدمیوں کا بوجھ اٹھا لیتا ہے بلکہ وہ ایک ہی آدمی کا بوجھ اٹھاتا ہے کیونکہ اس کی اتنی ہی طاقت ہے۔مگر یہ دو من بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔تو کوئی آدمی نہیں ایسا مل سکتا جو دو آدمیوں کا کام کرے۔اسی طرح قومی کام بھی کوئی ایک شخص نہیں کر سکتا بلکہ وہ کام بھی قومیں ہی کیا کرتی ہیں۔میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ جماعت کا یہ خیال کر لینا کہ فلاں کام خلیفہ ہی کرے گا۔یہ بہت بڑی غلطی ہے۔خلیفہ صرف منتظم ہوتا ہے جو جماعت کے انتظام کو قائم رکھتا ہے لیکن وہ کتنا ہی محنت سے کام کرنے والا ہو۔کتنا ہی سوز و گداز رکھتا ہو اور کتنی ہی خواہش کرنے والا ہو۔تمام کاموں کے کرنے کے لئے پھر بھی وہ ایک ہی آدمی کا کام کر سکتا ہے۔جب تک اس کے ساتھ کے