خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 200

200 wwwwww آپ کی جماعت میں مبلغ تو ہیں لیکن مجاہد بہت کم ہیں۔یہ ایسی طنز تھی کہ اس کی بجائے اگر وہ شمشیر سے ہمیں قتل کر دیتا تو بہتر تھا۔آج ہی بخارا کے متعلق کسی قدر مفضل رپورٹ میاں محمد امین خان کی طرف سے آئی ہے وہ کو ئٹہ پہنچ گئے ہیں۔لکھتے ہیں کہ جب میں چھوٹ کر بخارا سے بھاگا اور میں نے سمجھا کہ اب تو وہ مجھے مار ہی ڈالیں گے اس لئے مرنے سے پہلے پہلے کسی کو جلدی سے کچھ سنا دوں تو اس گھبراہٹ میں میں نے ایک عالم حاجی کے پاس پہنچ کر اسے تبلیغ شروع کر دی اور بڑے جوش کے ساتھ اس نیت سے تبلیغ شروع کی کہ میں تو شاید مارا جاؤں گا اس سے پہلے کچھ تبلیغ کر جاؤں۔اس وجہ سے تبلیغ کا اتنا اثر ہوا کہ جب میں نے کہا کہ مسیح موعود آگیا۔تو وہ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا میں مانتا ہوں۔پھر میں اس کو بٹھاتا اور تبلیغ شروع کرتا لیکن جب حضرت مسیح موعود کا نام لیتا تو پھر کھڑا ہو جاتا اور کہتا کہ میں مانتا ہوں اور یہ حاجی اس جگہ کے بڑے عالم ہیں۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ ایک اور رئیس کے پاس پہنچا جو بڑا تاجر بھی ہے اور جس کا مکان کئی لاکھ کا ہے اس نے وہ مکان مبلغوں کے لئے وقف کر دیا ہے اس کو جب تبلیغ کی گئی تو اس پر بھی اسی وقت انتنا اثر ہوا کہ جب اس کے سامنے وہ حاجی صاحب زیادہ تحقیق کے لئے اور لوگوں کے سوالات کا جواب پوچھنے کے لئے کچھ جرح کرتے تو وہ تاجر غصہ میں آکر کہتا کہ تم کیوں سوال کرتے ہو۔جب ہم نے ان کی باتوں کو مان لیا ہے اور یہ مہدی کے نائب کا نائب ہے تو بس جو یہ کہتا ہے وہی صحیح ہے۔تم یہ کیوں کہتے ہو کہ یہ بات کس طرح ہے۔یہ حال ہے ان لوگوں کا جو ماموروں کی محبت رکھنے والے ہیں۔پھر اس تاجر نے کہا کہ ہم سب خرچ مبلغوں کا برداشت کریں گے تو باہر خدا تعالیٰ ایسی جو شیلی جماعتیں تیار کر رہا ہے جو ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔افریقہ کے احمدیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اخلاص میں چور ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے تھوڑے عرصہ کے اندر ہی ہزاروں کی تعداد تک پہنچ گئے ہیں اور وہ لوگ احمدیت پر فدا ہو رہے ہیں۔جب ان لوگوں کا یہ حال ہے تو وہ لوگ جو مرکز کے رہنے والے ہیں ان کی غفلت نہایت ہی قابل افسوس ہے۔مرکز سے مراد یہ ہے کہ جو اس ملک کے لوگ قادیان سے تعلق رکھتے ہیں۔پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ مستیاں چھوڑ دو اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ہمارے کاموں میں برکت ہو۔اور ان کامیابیوں کے نظارے کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جن کی خبر حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے دی ہے۔است بخاری کتاب القدر باب العمل بالخواتيم۔۔۔الفضل ۲۱ ستمبر ۶۲۲)