خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 168

168 ابوبکر کے وقت آپ ایک مسئلہ اور رنگ میں بیان فرماتے اور بعض صحابہ اور رنگ میں اور سوائے سیاسی اور انتظامی معاملات کے اس وقت خلیفہ جو کہتا اسی پر عمل ہوتا تو مسائل میں اختلاف کیا جاتا تھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو حضرت ابو بکڑ نے کہا، میں ان سے کافروں والا معاملہ کروں گا۔حضرت عمرؓ اور دوسرے صحابہ اس کے خلاف تھے۔مگر حضرت ابو بکڑ نے کسی کی نہ مانی اور ان لوگوں کو قید کیا اور غلام بنائے گئے۔اسی طرح اور خلفاء کے زمانہ میں بھی بعض مسائل میں اختلاف ہوتا رہا ہے تو رسول کی اطاعت اور خلیفہ کی اطاعت میں فرق ہے۔رسول سے کسی بات میں اختلاف کرنا نادانی اور جہالت ہے اور یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ خدا نے غلطی کی ہے کیونکہ رسول کا کلام خدا تعالیٰ کے کلام کی تفسیر ہوتا ہے۔یہ تو ایسی ہی مثل ہے۔کوئی پٹھان قدوری پڑھ رہا تھا۔حدیثوں میں آتا ہے کہ نماز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض حرکات کی ہیں۔مثلاً آپ کی پیٹھ پر بچہ چڑھ گیا اور آپ نے ہٹا دیا۔یا اٹھا لیا ہے یا اور حرکات کیں۔ادھر بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ حرکت سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔پٹھان نے جب یہ بات پڑھی تو کہنے لگا۔خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔وہ یہ نہ سمجھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو نماز کی تفسیر ہیں۔تو انبیاء کی ہر بات ماننی ضروری ہوتی ہے کیونکہ وہ خدا کے کلام کی تفسیر ہوتے ہیں۔مگر خلفاء ایسے نہیں ہوتے اگر ہوں تو یہ ان کا ذاتی کمال ہو گا خلافت سے اس کا تعلق نہیں اس لئے ان کی اطاعت نبی کی اطاعت کے مقابلہ میں محدود ہوتی ہے۔اور وہ یہ کہ انتظامی معاملات جن میں جماعت کو جمع رکھنا ہوتا ہے ان میں ان کا حکم مانا جائے۔مثلاً قاضیوں نے جو فیصلہ کرنا ہو گا وہ خلیفہ کے حکم کے ماتحت کرنا ہو گا۔تو خلفاء کی اطاعت محدود ہوتی ہے اور صرف چند باتوں میں ہوتی ہے جو انتظامی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔مسائل فقہ سے تعلق نہیں رکھتیں۔پس خلفاء بھی واسطہ نہیں اور جب انبیاء بھی واسطہ نہ ہوئے اور نہ خلفاء تو پھر اور کونسا وجود واسطہ ہو سکتا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ خدا اور بندہ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔اس لئے ہر فرض جو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ ہر مسلمان کا فرض ہے اگر تبلیغ کا فرض ہے تو یہ نبی اور خلیفہ کا فرض نہیں۔وہ اپنی اپنی ذات کے ذمہ وار ہیں۔باقی ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہے اور وہ اپنی ذات کا آپ زمہ وار ہے۔اور ایسا ہی ذمہ وار ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔پس جب تک ہر ایک مسلمان اس بات کو نہ سمجھے کہ دین کے تمام حکم براہ راست اس کے لئے ہیں اور سب کام اس کے ذمہ ہیں تب تک اچھی طرح ان کو ادا نہیں کر سکتا۔اب رہی یہ بات کہ ان احکام اور فرائض کو کس طرح ادا کیا جائے۔یہ مضمون چونکہ اور