خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 150

150 نہیں جاتی تو مر جاتا ہے۔پہلے وہ ایک اندھیری کوٹھڑی میں رہتا تھا۔اگر وہاں سے اسے جدا کیا جاتا تو مرجاتا لیکن اب اگر اسے اندھیری جگہ میں رکھا جاتا ہے تو مرجاتا ہے۔پہلے جس جگہ وہ رہتا تھا اس کو اگر خشک کر دیا جاتا تو مر جاتا۔لیکن اب اگر اسے بھگو کر رکھا جاتا ہے تو نمونیہ ہو کر مر جاتا ہے تو حالات بالکل بدل گئے۔جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت اگر کسی طرح غذا اس کے پیٹ میں پہنچا دی جائے تو مر جائے گا۔لیکن جب پیدا ہو جائے اس وقت اگر غذا نہ دی جائے تو مر جائے گا۔چند سیکنڈ ماں کے پیٹ سے باہر آنے میں بچہ کو لگتے ہیں۔لیکن اسی میں حالت بالکل بدل جاتی ہے۔پیدا ہونے سے قبل بعض احتیاطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ اگر نہ کی جائیں تو بچہ مر جاتا ہے لیکن پیدا ہونے کے بعد اور احتیاطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ اگر نہ کی جائیں تو بچہ ہلاک ہو جاتا ہے۔پھر بچپن کی حالت ہوتی ہے۔دودھ پینے کی حالت میں اگر بچہ کو کوئی روٹی یا بوٹیاں کھلا دے تو وہ مرجائے گا۔بچہ میں خود تو چبانے کی طاقت نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی بیوقوف ماں یا رشتہ دار چبا کر بچہ کے منہ میں ڈال دے تو وہ بیمار ہو کر مر جائے گا۔مگر بڑے ہو کے اگر اسے صرف دودھ پر رکھا جائے تو مر جائے گا کیونکہ جب بچہ تھا اس وقت اس کی غذا دودھ تھی۔جب دانت نکل آئے تو اور غذا ہو گئی۔اس وقت دودھ پر وہ گزارہ نہیں کر سکتا لیکن بچپن میں وہ ان غذاؤں پر گزارہ نہیں کر سکتا تھا۔اس کے بعد پھر اور تغیر ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ بچہ کو اگر آزاد نہ چھوڑا جائے تو وہ دماغی ترقی نہیں کر سکتا۔اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بچہ آزاد چھوڑا جائے تاکہ وہ کھیلے کو دے۔مگر کچھ عرصہ بعد ایک اور زمانہ آتا ہے اس وقت اگر اس کا دماغ کسی خاص طرف نہ لگایا جائے تو وہ باکل غبی اور کند ذہن ہو جاتا ہے۔وہی بچہ جسے پانچ چھ سال پہلے اگر کسی دماغی کام پر لگایا جاتا تو اس کا دماغ خراب ہو جاتا۔اسی کو اگر آٹھ دس سال کی عمر میں دماغی کام پر نہیں لگایا جاتا تو اس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔کتنی الٹ بات ہے پھر بچہ اس سے اوپر ترقی کرتا ہے۔اور بالغ کامل ہو جاتا ہے۔اس زمانہ میں اور پہلے زمانہ میں عظیم الشان فرق ہوتا ہے۔پہلے زمانہ میں تو اس کے متعلق احتیاط یہ تھی کہ اسے اپنے اندر بڑھنے اور مضبوط ہونے دیا جائے۔اس کے والدین اس کے استادوں اور نگرانوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے اندر ترقی ہو۔اور اگر وہ جہالت یا غلطی یا بد محبت کی وجہ سے اپنی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے تو اس کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔لیکن جب بالغ ہو جاتا ہے۔اس وقت اگر ان طاقتوں کو خرچ نہ کرے بلکہ بند رکھے تو اس کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔کتنا بڑا تغیر ہے۔اس کے بعد ایک اور زمانہ آتا ہے۔یعنی جوانی کے بعد ادھیڑ عمر جوانی میں اگر اپنی طاقتوں کو