خطبات محمود (جلد 8) — Page 146
146 گیا۔اس کے بعد میں نے ایک اور اعلان کیا جس میں لکھا کہ روپیہ کی ابھی اور ضرورت ہے اب اگر وعدے وغیرہ بھی ملالئے جائیں تو ستر ہزار کے قریب چندہ ہو گیا ہے۔یہ اس جماعت کے کمزور حصہ کا کارنامہ ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے کمزور ہے ہماری جماعت کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں کیا ہے کچھ بھی نہیں۔لیکن اگر عام مسلمانوں میں بھی اعلان کیا جاتا کہ ان کی عورتیں تین ماہ کے عرصہ میں اس قدر چندہ دیں تو اگرچہ ان میں کروڑ پتی اور لاکھ پتی بھی ہیں نواب اور راجے بھی ہیں۔تو بھی اس آسانی سے اتنا چندہ جمع نہ ہو سکتا تھا۔ان کے بڑے بڑے لیڈر سردار خان بہادر وغیرہ باہر دورے کریں گے اور شہر شہر پھریں گے تب جا کر چندہ جمع ہو گا۔مگر یہاں نہ میں باہر نکلا نہ کوئی ہمارا وفد چندہ جمع کرنے کے لئے گیا۔صرف اخباروں میں اعلان کیا گیا اور ہماری جماعت کی عورتوں نے مقررہ مدت میں چندہ جمع کر دیا۔اس سے خدا تعالیٰ نے ثابت کر دیا ہے کہ اللہ تعالی کمزور جماعتوں کو لیکر ان سے جو کام لیتا ہے وہ بڑے بڑے لوگ بھی نہیں کر سکتے۔کجا ہندوستان پھر کجا مسلمان احمدی جماعت اور پھر کجا انکی بھی عورتیں کہ ان کے سرمایہ سے برلن میں مسجد تیار ہو۔یہ بادشاہوں کے لئے عبرت اور غیرت کا مقام ہے۔اور انہیں کہا جا سکتا ہے کہ تمہارے پاس مال تھے۔تمہارے پاس ملک تھے۔تمہارے پاس سامان تھے۔مگر تم عیش و عشرت میں پڑے رہے اور اپنے اموال کو اپنے نفسوں پر خرچ کرتے رہے مگر اس کمزور جماعت کے کمزور حصہ نے جسے تم کافر کہتے ہو اس کی عورتوں نے کفر گڑھ میں مسجد بنانا شروع کر دی۔میں تو اس بات کو نہیں مانتا لیکن کہتے ہیں قارون کا خزانہ زمین میں دفن ہے۔یہ مثال کے لئے عمدہ بات ہے ہم خزانہ رکھنے والوں کو کہہ سکتے ہیں کہ تمہارے خزانے تو زمین کے نیچے دفن ہیں یا تمہارے نفسوں پر خرچ ہوئے مگر دیکھو ایک غریب جماعت کی عورتوں نے کس طرح خدا تعالیٰ کے لئے اپنا مال خرچ کیا۔کہا جاتا ہے کہ ہم مسلمان بادشاہوں کا کیوں ساتھ نہ دیں۔میں کہتا ہوں ان کی بادشاہت اور ان کے خزانوں سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچا۔ان کا خزانہ تو قارون کے خزانہ کی طرح بند ہی رہا۔اصل خزانہ احمدی جماعت کا ہی خزانہ ہے جو خدا کے دین کے لئے خرچ ہو رہا ہے۔وہ لوگ جو امیر ہیں دراصل غریب ہیں کہ اسلام کے لئے ان کے اموال خرچ نہیں ہوتے اور ہماری جماعت جو غریب ہے حقیقت میں یہی امیر ہے کہ اس کا مال دنیا کے فائدہ کے لئے خرچ ہو رہا ہے۔پس یہ کس قدر شکر کا مقام ہے کہ ایک قلیل عرصہ میں قلیل جماعت کی قلیل تعداد اور کمزور حصہ نے مطلوبہ سرمایہ سے بھی زیادہ جمع کر دیا۔اور مسجد بننے کا کام شروع ہو گیا۔آج میں نے اس بات کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ میں نے لکھا تھا جب مسجد کی بنیاد رکھنے کا کام شروع ہو تو یہاں تار دیں تاکہ جماعت دعا کرے۔آج تار آگئی ہے جس میں لکھا ہے کہ آج کے دن 9 بجے بنیادیں کھدنی