خطبات محمود (جلد 8) — Page 134
134 شاید کوئی کسے ہم صدقہ دیتے ہیں مگر یہ بھی جواب درست نہیں۔اور مذاہب والے بھی بڑی بڑی خیراتیں کرتے ہیں۔شاید کوئی کہے ہم خدا کی کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کتاب پر ایمان لانا تو کوئی فضیلت کی بات نہیں۔اور مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے نزدیک خدا کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔شاید کوئی کہے کہ وہ کتا ہیں تو منسوخ ہو گئی ہیں۔بے شک وہ منسوخ ہو گئی ہیں مگر سوال تو یہ ہے کہ کیوں منسوخ ہو ئیں۔وہ بھی تو خدا کی طرف سے تھیں۔غرض پھر وہی سوال سامنے آئے گا کہ ہمیں دوسروں پر کیا شرف اور کیا فضیلت حاصل ہے۔عظمند کہا کرتے ہیں اور سچی بات کہتے ہیں کہ کیوں کیا اور کس کا سوال یا تو انسان کو تھکا کر یا پاگل بنا کر بٹھا دیتا ہے۔کوئی کہے یہ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔مثلاً یہ کہ زمین کس نے پیدا کی۔جواب دیا جائے۔خدا نے پھر پوچھے خدا کو کس نے بنایا۔تو اس کا کیا جواب ہوگا۔تو فلسفی کہتے ہیں کہ کیوں اور کیا دھوکے کی طرف لے جانے والے سوال ہیں۔مگر یہ درست نہیں کہ ہر کیوں اور ہر کیا پاگل بنا دیتا ہے اور غلطی کی طرف لے جاتا ہے۔بلکہ وہ کیوں اور کیا ایسا کرتے ہیں جو انسان کے دائرہ عقل سے بالا ہوتے ہیں۔ورنہ ان کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔مثلاً کوئی پوچھے۔کھیت میں کیوں پانی ہے۔ایک بچہ یہ سوال کرتا ہے۔اس کا جواب اسے دینا چاہئیے کیونکہ بچہ کو یہ کہنا کہ "کیوں" نہ کہو۔اس کا یہ مطلب ہے کہ بچہ جاہل رہے۔کھیت میں پانی ہونے کے دو جواب ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ کنوئیں یا نہر سے پانی ڈالا گیا ہے۔اور دوسرا یہ کہ بارش کا پانی ہے۔اس پر اگر بچہ یہ سوال کرے کہ نہر کیوں چلائی گئی یا یہ کہ پانی کیوں ڈالا گیا ہے تو اس کا جواب نہ دینے پر بھی بچہ جاہل رہے گا۔اس کا جواب یہ ہوگا کہ اگر پانی نہ دیتے تو غلہ نہ پیدا ہوتا۔اس پر اگر بچہ یہ سوال کرے کہ غلہ کیوں پیدا ہوتا ہے تو اس کا یہ جواب نہ دینے پر کہ غلہ سے انسان خوراک کھا کر زندہ رہتے ہیں تو اس بات سے بچہ جاہل رہے گا۔پس ہمیں بچہ کو یہ بات جانی پڑے گی۔پھر بچہ کہہ سکتا ہے۔کیا ضرورت ہے انسان کے زندہ رہنے کی۔اس کا جواب بچہ کے لئے سمجھنا مشکل ہے کیونکہ جواب یا تو فلسفیانہ ہو گا یا مذہبی۔اس کا جواب بچہ کو یہی دیا جا سکتا ہے کہ جب تمہیں چھیڑ پڑتی ہے تو کیوں روتے ہو۔اسی طرح ہر شخص نہیں چاہتا کہ بھوکے رہنے کی تکلیف اٹھائے اور اس پر موت آئے۔لیکن بڑے آدمی کو یہ جواب نہیں دے سکتے۔اس کو علمی طور پر جواب دیا جائے گا اور بتایا جائے گا کہ انسان کی پیدائش کی غرض کیا ہے۔اس کی زندگی سے چونکہ اگلے جہاں کی ترقیاں وابستہ ہوتی ہیں۔اس لئے خدا نے ہر ایک انسان میں خواہش پیدا کی ہے کہ زندہ رہ کر اگلے جہان کے لئے کچھ کما لے۔تو بڑے اور سمجھ دار آدمی کو اس رنگ میں سمجھائیں گے۔مگر بچہ کو جو جواب دیا جائے گا وہ حقیقی جواب نہیں ہوگا بلکہ ٹلانے والا ہو گا۔لیکن بڑے آدمی کے سوال کا بھی دائرہ ایک حد پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔مثلاً کہے کہ خدا نے یہ