خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 132

132 25 ہمارے مذہب کی امتیازی شان (فرموده ۲۰ / جولائی ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ایک سوال ہے جو میرے نزدیک ہر مسلمان کے دل میں پیدا ہونا چاہیے اور میں سمجھتا ہوں تمام سمجھ دار لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے گو ظاہر کو دیکھ کر مجھے افسوس کے ساتھ سمجھنا پڑتا ہے اور عقل اس کی گواہی دیتی ہے کہ شاید سب کے دلوں میں نہیں پیدا ہو تا یا اگر پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے حل کرنے کی جرأت نہیں کرتے یا اگر وہ حل کرنے کی جرات رکھتے ہیں تو ان سے حل ہوتا نہیں اور جب ان سے حل نہیں ہوتا تو یہ جرأت نہیں رکھتے کہ دوسروں سے حل کرانے کے لئے ان سے پوچھیں۔یا اگر ان سے حل ہو جاتا ہے تو اس کی تعمیل کرنے کی ان میں جرات نہیں ہوتی۔مگر یہ ایسا اہم سوال ہے کہ اس کے حل کئے بغیر در حقیقت ایک خدا کے ماننے والے اور ایک خدا کی پرستش کرنے والے کو کچی راحت نہیں مل سکتی اور کبھی اسے اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا۔پس جس غرض کے لئے انسان مذہب کو قبول کرتا ہے۔ساری دنیا سے جھگڑا مول لیتا ہے۔جس غرض کے لئے کسی قسم کے فوائد قربان کرتا ہے یہ ان لوگوں کا ذکر نہیں جو مذہب کی چدر نام کے طور پر اپنے اوپر اوڑھ لیتے ہیں۔بلکہ ان کا کہنا ہے جو مذہب کے لئے قسم قسم کی قربانیاں کرتے ہیں۔ایسے لوگ باوجود اس کے اس سوال کے حل کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔وہ سوال کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ ہم میں اور سرے لوگوں میں کیا فرق ہے۔میرے نزدیک ہر عقل مند کے دل میں یہ سوال پیدا ہونا چاہیے کہ میں نے جو یہ مذہب قبول کیا ہے تو مجھ میں اور جس نے اسے قبول نہیں کیا اس میں کیا فرق ہے۔مجھے اس سوال کے بارے میں ہندوؤں، یہودیوں، عیسائیوں اور سکھوں سے تعلق نہیں۔بنی نوع انسان ہونے کے لحاظ سے تو سب میرے بھائی ہیں۔مگر اس سوال کی وجہ سے ان سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ میرے دل میں یہ سوال اور طرز پر پیدا ہو گا اور ان کے دل میں اور طرز پر۔میرے دل میں تو یہ سوال اس طرز پر پیدا ہو گا کہ ایک مسلمان اور ایک ہندو میں کیا فرق ہے۔مگر ایک ہندو کے رو