خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 123

123 23 کارکنان جماعت قابلیت اور تجربہ حاصل کریں (فرموده ۶ / جولائی ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں نے ایک پچھلے جمعہ اس امر کے متعلق خطبہ پڑھا تھا کہ ہر ایک دینی امر کے ساتھ کچھ دنیوی امور بھی لگے ہوتے ہیں اور اگر کسی دینی امر میں انسان کامیاب ہونا چاہے تو ان پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے جو گو دنیاوی ہوتے ہیں مگر اس دینی امر سے وابستہ ہوتے ہیں۔مثلاً میں نے بتایا تھا نماز در حقیقت دینی امر ہے اور خدا تعالیٰ سے تعلق اور قرب حاصل ہونے میں اس بات کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ کبھی انسان اٹھتا ہے کبھی بیٹھتا ہے۔نماز کا تعلق انسان کے قلب اور دل سے ہے۔دل میں اگر خدا تعالیٰ کی محبت ہے تو خدا کا قرب حاصل ہو گا۔اور اگر دل میں محبت نہیں تو ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے سے نہیں حاصل ہو جائے گا۔مگر میں نے بتایا تھا باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کا تعلق قلب سے ہے مگر جس محبت کو قلب سے تعلق ہے وہ پیدا نہیں ہو سکتی جب تک اس کی ظاہری علامات نہ ہوں کیونکہ انسان کی فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ اس کی توجہ ایک طرف قائم کرنے اور اس کی طبیعت کے انتشار کو روکنے کے لئے ظاہری علامات کا ہونا ضروری ہے۔بے شک یہ اصل مقصود نہیں ہیں لیکن اگر یہ نہ ہوں تو اصل مقصود بھی حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اس کے لئے بطور چھلکا ہیں۔اور اگر چھلکا نہ ہو تو مغز بھی نہیں رہ سکتا۔دیکھو پیاس کے لئے پانی کی ضرورت ہے مگر پانی رہ نہیں سکتا جب تک برتن نہ ہو۔اگر ایک شخص کسی دوست یا ملازم کو کہے کہ پانی لاؤ اور وہ برتن مانگے تو کیا اسے یہ کہا جائے گا کہ مجھے برتن کی ضرورت نہیں۔پانی کی ضرورت ہے۔بے شک برتن کی ضرورت نہیں۔پانی کی ہے۔لیکن پانی بغیر برتن کے آنہیں سکتا۔اسی طرح عبادت قلبی ہوتی ہے۔مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ظاہری سامان ہوں کہ انسان کی پراگندگی خیالات دور ہو اور ایسے طریق سے انسان خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑا ہو کہ جو دنیا میں ادب کے لئے استعمال ہوتے ہیں تاکہ اس کے دل میں ادب پیدا ہو۔پھر میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ دینی ترقی کے لئے یہ بھی ضروری ہے