خطبات محمود (جلد 8) — Page 101
101 یہاں سے ایک جماعت بھیجیں جو اس کی فصل کاٹ آئے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اور سامان کر دئے۔اس پر پہرہ رکھا جاتا تھا۔اس کو مبلغوں سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔رات کے بارہ بجے یہ مبلغین کے پاس آتی تھی۔اور ان کو مل کر خوشی حاصل کرتی تھی۔اس کو دین کا اتنا جوش تھا کہ میاں یوسف علی صاحب بی۔اے جو ہماری طرف سے وہاں مبلغ ہیں ان سے اس نے کہا کہ بیٹا اگر تم جو ملکانوں کو دین سکھانے آئے ہو۔دین اسلام کو چھوڑ دو۔تب بھی میں نہیں چھوڑوں گی۔یہ ایک مخلص عورت ہے اور مردوں سے بہادر ہے۔اب یہی عورت جس کو مرتد ہو کر ملکانے کمزور سمجھتے تھے۔زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔یہ لوگ اس کی عزت کریں گے۔اسپار کے موقع پر ہمیں ایک افسوس پہنچا تھا۔اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں بشارت دی ہے مگر جب تک سارا علاقہ واپس نہ آجائے ہم خوش نہیں ہو سکتے۔ہم اکرن کے واپس آنے سے زیادہ خوش ہو کر خاموشی اور اطمینان نہیں حاصل کر سکتے کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ فتح شدہ علاقہ واپس بھی ہو جایا کرتے ہیں بلکہ اب ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔اس فتح نے موقع کو نازک اور ہماری ذمہ داری کو اہم کر دیا ہے۔اس لئے آنے والے خطرات کے لئے تیار ہو جانا چاہیئے۔اس لئے ہماری جماعت کو چاہیے کہ جن احباب نے اب تک زندگیاں وقف نہیں کیں۔وہ زندگیاں وقف کریں۔اور جنہوں نے باوجود استطاعت کے کم از کم سو روپیہ نہیں دیا۔وہ دیں۔ہمارے زمیندار بھائیوں نے اب تک اس میں زیادہ حصہ نہیں لیا اور ان کا عذر معقول تھا کہ نہیں اٹھائی تھی۔اگر پنجاب کی یہ ضرب المثل درست ہے کہ آدھی ذات جاٹ ہے باقی سب راجپوت ہیں۔اس لئے دوسرے مسلمانوں کی نسبت راجپوتوں کو ان کے بھائیوں کی حالت پر توجہ دلاتا ہوں کہ چندہ دیں۔اگر چہ ہمارے مبلغین آنریری کام کرتے ہیں اور اس طرح کام کرتے ہیں کہ دوسروں کو اس کی مثال بہت کم مل سکتی ہے۔اکیلے بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی ہی کے سفروں کو اگر دیکھا جائے تو فی مہینہ ہزاروں میل وہ پیدل سفر کرتے ہیں اور متواتر چار چار دن تک سفر کرتے رہتے ہیں باوجود اس کے انہی سفروں کو دیکھا جائے جو خاص ہماری ہدایت کے ماتحت کئے جاتے ہیں اور کتابیں اور ٹریکٹ اور اشتہارات کے اخراجات کو دیکھا جائے اور ان دوماہ کے خرچ کی اوسط نکالی جائے تو تین ہزار سے زیادہ خرچ ہو چکا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں کم از کم ۸۰-۹۰ ہزار کی ضرورت ہوگی۔اگر ہم خاص ہمت اور قربانی سے کام نہ کریں گے تو یہ کام کیسے ہو گا۔اس میں شک نہیں ہماری جماعت بڑی مالی قربانیاں کرتی ہے۔لیکن ان انعامات کے مقابلہ میں جو ہمیں ملیں گے۔اس کو قربانی کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔اور مجھے تو پسینہ آجاتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ اس کو قربانی قرار دیتا ہے ورنہ سب کچھ اسی کا ہے جو ہم خرچ کرتے ہیں۔