خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 89

89 جماعت ہے اس پر عمل کرنا چاہئیے۔ہماری جماعت آخری ہے۔کیا بلحاظ اس کے آخری نبی کی جماعت ہے اور آخری سلسلہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح اور مہدی کے ذریعہ قائم ہوا ہے۔پس ہم ہی آخری امت کہلانے کے مستحق ہیں۔ہم آخری محمدی امت ہیں۔اس لئے کہ آخری شرعی رسول ہمارا رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ہم اس کی آخری جماعت ہیں۔اور اس کمال کا رسول آئندہ نہیں پیدا ہو گا۔جو ہو گا وہ اسی سے فیضیاب ہو کر ہو گا۔پس ہماری جماعت کو ان قواعد کے مطابق عمل کرنا چاہئیے۔اور سب سے بڑا جامع فائدہ یہ ہے کہ کسی کام کو چھوٹا نہ سمجھا جائے اور کسی کو بڑا نہ سمجھا جائے اگر اندرونی فتنہ چھوٹے سے چھوٹا ہو تو خوف کھائیں اور اگر ہمارا دشمن بیرونی ہو تو اس کی کثرت سے نہ گھبرائیں۔ہمیں امت وسطی بنایا گیا ہے۔ایک لمبا آدمی ایک بچے کے لئے لمبا ہے۔مگر جو آدمی متوسط درجہ کا ہے اس کے لئے لمبا نہیں۔اور اس کے لئے بچہ چھوٹا نہیں۔اس لئے متوسط درجہ کا آدمی چھوٹے کو حقیر نہیں خیال کر سکتا۔پس حالت یہ ہونی چاہئیے کہ غیروں کی طرف سے خواہ کیسے ہی مصائب آئیں ان سے نہیں ڈرنا چاہیئے اور اگر جماعت کے اندر فتنہ ہو خواہ چھوٹا ہو تو اس سے ڈرنا چاہئیے کہ شیطان نے ہماری تباہی کے لئے یہ راہ نکالی ہے۔اسی صورت میں ہم زندہ رہ سکتے ہیں کہ ان باتوں کو سمجھ لیں۔اور تبھی ہم امت وسطی بن سکتے ہیں کہ اس وقت ہماری حالت کیسی ہوگی۔ہم لوگوں پر نگران مقرر کئے جائیں گے۔حاکم بن جائیں گے اور تم پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نگران ہونگے۔آپ کا وجود تمہاری نگرانی کرے گا اور ان احکام پر عمل کرنے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سامنے آجائیں گے اور آپ کی روح ہزاروں سال تک تم میں کام کرے گی۔تم دنیا کے حاکم ہو گے اور تمہارا حاکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونگے۔تم محمد کی روح کو اپنے اندر کام کرتا ہوا پاؤ گے۔یہ کتنی بڑی ترقی کا وعدہ ہے۔کام صرف یہ ہے کہ امت وسطی بن جاؤ۔وہ ق۔وہ قوم مرجانے کے قابل ہے جو جماعت میں پیدا ہونے والے رخنوں کو معمولی خیال کرتی ہے۔افراد سے جماعتیں بنا کرتی ہیں۔اگر جماعت کے ایک فرد کی اچھی حالت نہیں تو یہ علامت اچھی نہیں۔اور دوسری طرف یہ ہونا چاہیے کہ خواہ مخالف کتنا ہی بڑے سے بڑا اور طاقتور ہو اس کی سطوت تمہیں خوف زدہ نہ کرے۔تم اس کے مت!! میں ذلت کے لئے تیار نہ ہو۔جب تم میں یہ وثوق ہو گا تبھی تم زندہ رہ سکتے ہو الر تم اس گر پر عمل کرو گے تو دنیا کے حاکم ہو جاؤ گے اور دنیا کے فاتح ہوگے۔یاد رکھو۔خواہ سیاسی امور ہوں یا مذہبی ان سب میں یہ اصول کام کرتا ہے۔دوسری نعمت اس اصول پر عمل کرنے سے یہ ملے گی کہ تم پر رسول اللہ نگران ہو جائے گا اور زمانہ کا بعد محمد رسول اللہ سے تمہیں جدا نہیں کر سکے گا۔تم دیکھو کہ وہ تم میں آگیا۔ایک طرف تم حاکم