خطبات محمود (جلد 8) — Page 553
553 رکھتے ہوئے ان کی سختیوں کو بھی برداشت کریں اور دوسرے دوستوں کو بھی اس کی نصیحت کریں۔جہاں تک ہو سکے۔آپ مہمانوں کی پورے زور کے ساتھ خدمت کریں۔اور میں اپنے باہر کے دوستوں کو بھی خصوصیت کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔کہ وہ کوشش کر کے خود بھی اس جلسہ میں شریک ہوں۔اور اپنے دوسرے دوستوں کو بھی لانے کی کوشش کریں۔اور خصوصیت کے ساتھ ایسے لوگوں کو ہمراہ لانے کی کوشش کریں۔جو تعصب نہیں رکھتے۔اور ان کے دل میں احمدیت کا انس ہے۔گو وہ ابھی سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے۔میں بیمار ہوں۔اور روز مجھے بخار ہو جاتا ہے۔لیکن پھر بھی میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ میں تقریر کروں گا۔یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ میں کر سکوں یا نہ کر سکوں۔لیکن میرا ارادہ ہے کہ میں تھوڑا بہت بیان کروں۔گو ڈاکٹر صاحب جو میرے معالج میں۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب وہ مشورہ نہیں دیتے کہ میں ایسی حالت میں کوئی تقریر کروں اس لئے دوستوں کو اپنی یہ غلط فہمی دور کر دینی چاہیئے کہ میں جلسہ پر تقریر نہیں کرنی چاہتا۔پس احباب پوری کوشش کے ساتھ ان لوگوں کو بھی ہمراہ لاویں۔جو سلسلہ سے دلچسپی رکھتے ہوں اور وہ خود بھی اخلاص اور محبت بھرے دل کے ساتھ قادیان میں آویں۔اور اپنے آپ کو میزبان سمجھ کر آویں۔کیونکہ جو قادیان میں آئے ہوئے ہیں۔وہ بھی تو ثواب کے لئے آئے ہوئے ہیں۔اتنے آدمی اور نوکر تو یہاں ہیں نہیں۔اس لے چاہیئے کہ دونوں اپنے آپ کو میزبان ہی سمجھیں۔ورنہ گزارہ مشکل ہو جائے گا کیونکہ کارکن قادیان میں کم ہیں۔اس لئے آنے والے دوستوں کو اپنے آپ کو مہمان سمجھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ رہنا چاہیئے بلکہ جو غیر احمدی اصحاب وہ اپنے ہمراہ لاویں۔ان کا بھی وہ خود زیادہ خیال رکھیں۔کیونکہ کثرت کام اور آدمیوں کی قلت کی وجہ سے ممکن ہے۔قادیان والے پوری توجہ نہ کر سکیں۔خدا تعالیٰ اپنے فضل اور کرم کے ساتھ ہر قسم کے فساد اور مصائب اور لغزشوں سے محفوظ رکھے۔اور تمام ترقیات کا ہم کو وارث بنائے۔جن ترقیات کی بشارات اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے ہم کو دی ہیں حضرت میر ناصر نواب صاحب الفضل ۲۳ دسمبر ۲۵ دسمبر ۱۹۲۴ء)