خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 540

540 مولوی صاحب مرحوم اپنی زندگی میں ہمیشہ عورتوں میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔اب آپ کو خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی آخری ساعت میں مجھے وصیت فرمائی کہ میرے مرنے کے بعد میاں سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں درس دیا کریں۔اس لئے میں اپنے والد صاحب کی وصیت آپ تک پہنچاتی ہوں۔وہ کام جو میرے والد صاحب کیا کرتے تھے۔اب آپ اس کو جاری رکھیں۔وہ رقعہ ہی تھا۔جس کی بناء پر میں نے عورتوں میں درس دینا شروع کیا اور وہ رقعہ ہی تھا۔جس کی وجہ سے میرے دل میں ان سے نکاح کا خیال پیدا ہوا۔پس اگر اس درس کی وجہ سے کوئی فائدہ عورتوں کو پہنچا ہو۔تو یقیناً اس کے ثواب کی مستحق بھی مرحومہ ہی ہے۔کیونکہ میرا اپنا منشاء عورتوں میں درس جاری رکھنے کا بالکل نہ تھا۔بلکہ حق تو یہ ہے کہ عورتوں میں خطبہ لیکچرز اور سوسائٹیاں اور ہر ایک خیال جو عورتوں کے متعلق ہو سکتا ہے۔اس کی محرک وہی ہیں۔بعض دفعہ محبت کے رنگ میں مجھ پر وہ ناراض بھی ہو جاتیں کہ آپ عورتوں کی طرف پوری توجہ نہیں کرتے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے تمام افراد سے ہی ان کو ایسی محبت تھی جو اور عورتوں میں بہت کم پائی جاتی ہے۔چنانچہ مرحومہ کی آخری باتوں میں سے ایک یہ بھی تھی۔کہ تمام احمدی بھائیوں کو میری طرف سے اسلام علیکم پہنچا دی جائے۔چونکہ میں ہی اس وقت مخاطب تھا۔اس لئے میں ان کا سلام تمام دوستوں کو پہچاتا ہوں و علیها السلام في العقبي و الآخرة ایسے وقت میں عورتوں کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں مگر وہ بار بار مجھے پوچھتی تھیں کہ مجھے بتاؤ۔میری کیسی حالت ہے۔مگر مومن چونکہ مایوں نہیں ہوتا۔اس لئے میں ان کو تسلی دیتا۔مگر پھر انہوں نے کہا کہ خدا کے واسطے مجھے میری حالت سے خبر دو کیونکہ میں بہت سی دعائیں کرنا چاہتی ہوں۔تب بھی میں نے ان کو یہی جواب دیا کہ دعائیں تو ہر حالت میں ہو سکتی ہیں۔پس ان کا حق ہے کہ تمام جماعت ان کے لئے دعائے مغفرت کرے۔اور جماعتیں اپنی اپنی جگہ ان کا جنازہ پڑھیں۔اور مجھ پر تو ان کا اتنا بڑا حق ہے کہ میں کسی طرح اس حق سے عہدہ بر آنہیں سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کا اخلاص اور ان کی محبت ساری جماعت کی عورتوں کے لئے بلکہ بہت سے مردوں کے لئے بھی قابل رشک ہے۔اس لئے جو لوگ اس وقت میرے ساتھ دعا میں شریک ہوں گے۔وہ یقیناً ان کے احسان کا بدلہ ہی دیں گے ایک ذرہ بھی زیادہ نہ کریں گے۔(الفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۲۴ء) ہو ا: حضرت سیدہ امتہ الحی مرحومه