خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 536

536 وقت کا احساس ہے کہ وہ کام جو تو نے موسیٰ عیسی علیہم السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ہم کہتے ہیں کہ وہ کام تو ہم کو بھی دے ممکن ہے کہ کل کو حالات ہی بدل جائیں اور ایسے واقعات پیدا ہو جائیں کہ ہمارے دل کی یہ کیفیت ہی نہ رہے۔اور ہم دعائیں کرنی ہی بھول جائیں اے خدا ایسا نہ ہو کہ ہم اس خدمت کے میسر آنے کے بعد غلطیاں کریں یا اس خدمت کو ہی بھول جائیں۔پس جب کوئی اس مقام کو حاصل کر لیتا ہے تو وہ ایک محفوظ قلعے میں آجاتا ہے۔جس قلعے میں بلائیں نازل نہیں ہوتیں وہ خدا جو رب العالمین ہے۔وہ اس کی ہر ایک چیز کی حفاظت کرتا ہے خواہ وہ کسی جگہ ہی ہو۔انگریزوں کا ایک افسر مصر میں مارا گیا سینکڑوں ہندوستانی اور پٹھان روز مارے جاتے ہیں۔ان کو کوئی پوچھتا بھی نہیں لیکن وہ افسر ایک زبر دست آقا کا غلام تھا۔انگریزوں نے اس کا بدلہ لینے کے لئے ہزاروں لاکھوں روپیہ خرچ کر کے دور دراز کا سفر اختیار کر کے جنگی بیڑا لا کھڑا کیا ہے کہ ہمارا آدمی کیوں مارا گیا۔اب یا تو تاوان دو۔ورنہ یہ جنگی بیڑا ہے۔اور یہ جنگی فوج پانچ لاکھ پونڈ پچہتر لاکھ روپیہ کا ان سے مطالبہ کیا ہے۔تا وہ رقم اس افسر کے پسماندگان میں تقسیم کی جاوے۔اور یہ کہ مجرموں کو گرفتار کر کے ان کے حوالہ کیا جائے۔تاکہ ان کو انگریز پھانسی دیں۔اور یہ کہ آئندہ کے لئے مصری عہد کریں کہ آئندہ ہمارا کوئی آدمی نہیں مارا جائے گا۔کہاں انگلستان اور کہاں مصر مگر چونکہ اس کا ایک غلام مارا گیا۔برطانیہ کو اس کی غیرت اور محبت نے خاموش نہیں رہنے دیا۔حالانکہ اس کی مقدرت سے اس کا زندہ کرنا باہر ہے۔مگر جہاں تک اس سے ہو سکتا ہے وہ بدلہ لینے کے لئے تیار ہے۔اور اس ایک جان کے بدلے اگر ہزاروں جانیں بھی چلی جائیں۔تو ان کو دریغ نہیں۔جب انگریزوں کو اپنے ایک غلام کے لئے ایسی غیرت اور حمیت ہو سکتی ہے۔تو کیا وہ خدا جو ماضی کا خدا ہے۔اور حال کا بھی اور استقبال کا بھی خدا ہے۔وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتے والے غلام کو یونہی کس مپرسی کی حالت میں چھوڑ دے گا۔اگر ایک شخص بچے دل اور اخلاص سے خدا تعالیٰ کے حضور ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتا ہے۔تو یقیناً وہ خدا جو رحمان ہے جو رحیم ہے۔مالک یوم الدین ہے۔وہ انگریزوں سے کم وفادار ثابت نہیں ہو گا۔اگر انگریز اپنے ایک غلام کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے اس کی مدد کر سکتے ہیں۔تو خدا کب اپنے ایک خادم کو بغیر مدد چھوڑ دے گا۔