خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 533

۔533 معلوم ہے کہ کل کو اس سے بھی زیادہ مجرم ہو گا اور فلاں فلاں حالتوں میں اس نے فلاں فلاں نا فرمانیاں کرنی ہیں اور فلاں فلاں وجوہ سے پرسوں ترسوں مہینہ چھ مہینہ سال دو سال چھ سال یا دس سال یہ شخص فلاں فلاں جرم کا ارتکاب کرے گا اور پھر اس وقت اس پر گرفت نازل ہو گی وہ پھر توبہ کرے گا۔اور اس وقت اس کی تڑپ سچی تڑپ ہو گی اور وہ اسی دن کے لئے ہو گی۔مگر باوجود اس علم کے کہ اس کا مستقبل تاریک ہے۔اور یہ ہمیشہ اس کی نافرمانی کرے گا وہ کہتا ہے کہ اے انسان جو اس وقت تیرے دل کی حالت ہے۔اسی کے مطابق میں تیرے ساتھ سلوک کرتا ہوں جا میں نے تجھے معاف کیا انسان کی حالت اس کے مقابلہ میں کیسی کمزور ہے۔ایک شخص بچے حالات اور کچی مجبوریوں کی بناء پر ایک انسان کا قصور کر بیٹھتا ہے۔اور وہ بچے دل سے اس پر نادم اور پشیمان ہوتا ہے۔مگر بسا اوقات انسان اپنے قصور وار سے ایسا سلوک کرتا ہے کہ جس کا وہ مستحق نہیں۔اس کے نیک سلوک بھی ہوتے ہیں مگر کبھی ایسے معاملات بھی پیدا ہو جاتے ہیں کہ جو کچھ اسے نہ کرنا چاہیئے وہ بھی کر لیتا ہے بے شک یہ رب تو بن جاتا ہے۔کیونکہ دنیا میں کوئی انسان نہیں جو رب نہیں۔مگر وہ رب العالمین نہیں۔انسان بھی ربوبیت کرتا ہے مگر اس کی ربوبیت محدود اور اس کا دائرہ نہایت تنگ ہے۔پس یہ حقیقی حمد اور تعریف کا مستحق نہیں۔اور وہ رحمٰن بھی ہے۔کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ہر اک زمانہ کا علم رکھتے ہوئے اور ہر دل پر اور اس کی کیفیات اور تغیرات پر آگاہ ہوتے ہوئے ایک قصور وار کے قصور کو اس وقتی ندامت اور پشیمانی کی بناء پر جس کو خدا ہی جانتا ہے۔معاف کر دیتا ہے گو بندہ اس وقت سچی توبہ کر رہا ہوتا ہے۔اور اس کا دل بالکل صاف ہوتا ہے۔مگر اپنے دل کی کل کی حالت کو وہ بھی نہیں جانتا پس خدا تعالیٰ ہی ہر ایک حمد کا مستحق ہے۔اور صرف وہی ہستی بلا مبادلہ انعام کر سکتی ہے۔جس کی ربوبیت صرف حال کے ساتھ ہی تعلق نہ رکھتی ہو۔کیونکہ جو چیز سامنے موجود ہے اور جسے ہم دیکھ رہے ہیں وہ تو ہمارے لئے کسی نہ کسی رنگ میں مفید ہی ہے۔رحمانیت تو اس سلوک کا نام ہے۔جو کسی امر کے ظہور سے پہلے ہو۔پس وہ رحمن ہے۔کیونکہ وہ رب العالمین ہے کہ اثرات کے ظہور سے پہلے وہ بلا مبادلہ ربوبیت کرتا ہے۔پھر وہ رحیم ہے۔اس لئے کہ وہ رب العالمین ہے اگر وہ رب العالمین نہ ہو تا تو رحیم بھی نہ ہوتا ہر ایک انسان کو اس کے نیک کام کا وہ بدلہ دیتا ہے۔انسانوں میں سے کون سا انسان ہے جو ہر ایک نیک کام کرنے والے کو بدلہ دے سکتا ہو۔وہ لوگ جو اپنے عمل اور اپنے فعل سے اپنے آپ کو کامل