خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 517

517 سال مشکلات اور مخالفت میں گزارنے کے بعد وہ کامیاب ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطرناک مشکلات کے وقت خدا سے خبر پا کر اپنی کامیابی اور ترقی کے متعلق کہا تھا۔وہ کس طرح پورا ہوا ؟ اس کو دیکھ کر صاف طور پر اقرار کرنا پڑتا ہے کہ جو کچھ کہا گیا تھا۔وہ خدا کا کلام تھا۔نہ آنحضرت صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بعض لوگوں کو دھوکا لگا ہے کہ آپ عالم الغیب تھے۔یہ درست نہیں۔خدا تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہوتا۔اور نہیں ہے۔عالم الغیب وا شہادت وہی پاک ذات ہے اور اس کی صفات میں کوئی شریک نہیں۔انبیاء علیہم السلام عالم الغیب نہیں ہوئے۔البتہ خدا تعالی کی طرف سے وحی پا کر وہ بعض پیش گوئیاں کرتے ہیں۔اور یہ علم غیب ان کا اپنا نہیں بلکہ خدا کا ہوتا ہے۔اور وہ غیب کی خبریں جو وہ قبل از وقت خدا کی وحی سے دیتے ہیں۔خدا کی ہستی اور ان کی صداقت کا ثبوت ہوتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے سردار ہیں۔اور آپ کو جو غیب کی خبریں دی گئی ہیں۔ان کا سلسلہ بہت لمبا ہے۔اس لئے کہ آپ کی نبوت کا دامن بہت وسیع ہے۔مگر باوجود اس کے بھی آپ عالم الغیب نہ تھے۔ہم جب آپ کے حالات کو دیکھتے ہیں۔تو ان میں بعض عجیب واقعات نظر آتے ہیں۔آپ نے خدا سے الہام پا کر مکہ معظمہ کا ارادہ کیا۔اور آپ ایک بہت بڑی جماعت کو لے کر عمرہ کے ارادے سے چل پڑے۔مگر حدیبیہ کے مقام پر آپ کو رک جانا پڑا۔اور آپ کو بغیر عمرہ کرنے کے واپس آنا پڑا۔آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔جو جماعت صحابہ کی آپ کے ساتھ تھی۔ان سب کو اپنے اموال خرچ کرنے کے باوجود واپس ہونا پڑا۔یہاں تک کہ بعض کو ابتلا بھی آیا کہ اگر رسول تھے۔تو خدا تعالٰی نے آپکو کیوں نہ بتا دیا کہ اس سال آپ عمرہ نہ کر سکیں گے۔مگر یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ نے جو کچھ خدا سے خبر پائی تھی۔اس پر پورا یقین تھا کہ وہ خدا ہی کی طرف سے ہے اور وہ اپنے وقت پر اسی طرح پوری ہوئی اور آپ کا اس سال عمرہ کے لئے آجانا اور مکہ میں داخل ہو سکتا اس امر کی دلیل ہو گیا کہ آپ عالم الغیب نہ تھے۔ورنہ آپ کو اس سال آنے کی ضرورت نہ سکتی۔غرض یہ درست نہیں کہ کوئی نبی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی عالم الغیب تھے۔اس کا علم اسی حد تک ہوتا ہے۔جو خدا سے اسے ملتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر اسلام کی ترقی کی پیش گوئی کی ہے۔اسلام کو ایک کامیابی آپ کے اور صحابہ کے عہد میں ہوئی اور وہ بہت بڑی کامیابی تھی۔مگر آخری