خطبات محمود (جلد 8) — Page 490
490 ہ سمجھتا ہے کہ ایک چلو ہے اور ایک چلو میں ایمان نہیں بہہ جائے گا۔مگر وہ اتنا نہیں سوچتا کہ یہ ایک چلو نہیں رہے گا۔بلکہ بہت بڑھ جائے گا کیونکہ انسان ایک مقام پر نہیں ٹھہر جائے گا۔یہ خیال بالکل غلط اور ہلاک کرنے والا خیال ہے۔کہ مذہب کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم کو بھی غیر ضروری سمجھ لیا جائے۔انسان کی صحت کا سوال لو اگر اس کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ اس چھوٹی سی بد پرہیزی اور حفظ صحت کے قانون سے بے پرواہی کا کوئی یہ نتیجہ تو نہیں ہو گا کہ ہلاک ہو جاؤں گا۔اس لئے اس کی پرواہ نہ کرو اس طرح پر وہ تھوڑی ہی علالت نہ رہے گی۔بلکہ رفتہ رفتہ اپنی صحت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔اس کا باعث وہی ابتدائی بے پرواہی ہو گی۔یہی حال روحانیت اور مذہب کا ہے۔ابتدا انسان چھوٹی چھوٹی باتوں کو غیر ضروری سمجھتا ہے۔اور یقین کر لیتا ہے کہ یہ معمولی بات ہے۔اس کا مذہب کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔مگر وہ اس پر نہیں رہتا۔اور آخر مذہب سے دست بردار ہو جاتا ہے۔اور خود اس کی اس حالت کا اثر قومی ترقی پر پڑتا ہے۔میں نے یہاں انگلستان میں دیکھا ہے کہ قد بڑے ہوتے ہیں۔خصوصاً عورتوں کے قد بڑے قابل رشک ہیں۔ہزاروں ہزار عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئی ہیں۔مگر ان میں ایسی قد آور نہیں تھیں۔یہاں جو اتنے بڑے قد ہو گئے ہیں۔یہ کسی دوائی کا نتیجہ نہیں ہیں۔بلکہ یہ حفظان صحت کے اصول کی پابندی کا یا ان کے کاموں کا نتیجہ ہے۔آدمی کے قد کا تو کیا ذکر ہے۔یہاں سبزیوں کے قد برما لئے گئے ہیں۔شلجم اور کدو اتنے بڑے بڑے ہوتے ہیں کہ بعض تو ایک ایک فٹ قطر کے ہوتے ہیں۔میں نے انگلستان اور امریکہ کی زراعت پر کتابیں پڑھی ہیں۔ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی طرح یہ ڈویلپمنٹ کر کے چھوٹی چیزوں کو بڑی بنا لیتے ہیں۔یہ مشاہدات اور تجربے ہم کو کیا بتاتے ہیں؟ یہی کہ چھوٹی چیزیں بڑی بن جاتی ہیں یہی قانون قومی اخلاق کے متعلق ہے۔اور چھوٹی چیزوں سے بڑے نتائج یقیناً نکلتے ہیں۔پس اگر قوم زندہ رہنا چاہتی ہے تو اس کا پہلا کام یہ ہے کہ اس کا قومی کریکٹر اعلیٰ اور مضبوط نفسی اخلاق پوشیدہ ہوتے ہیں۔اور وہ نظر نہیں آتے۔مگر قومی کریکٹر کا عام مشاہدہ ہوتا ہے۔اس قومی کریکٹر میں بعض عادات ہوتی ہیں۔بعض لباس کی صورتیں ہوتی ہیں۔پھر یہ عادتیں اور لباس بطور گر کے ہو جاتا ہے۔مثلاً اس ملک کا یہ قومی کریکٹر ہے کہ کوئی کام ہو اس میں ترتیب کو ہاتھ سے نہ دیں گے۔ہر موقعہ پر اس کو مد نظر رکھیں گے۔سٹیشن پر جائیں یا کسی دوسری جگہ وہ دھکا دے کر آگے نہ بڑھیں گے۔بلکہ جیسے جیسے آتے ہیں اپنی جگہ پر کھڑے رہیں گے۔کیسی ہی ضرورت ہو۔