خطبات محمود (جلد 8) — Page 468
468 ایسی ہمت ہو کہ ایسے موقعہ پر وہ اس سے کام لے سکے۔اس سے لوگ جاتے بھی نہیں دیکھو جب حضرت موسیٰ پہاڑ سے واپس آئے ہیں۔اس وقت وہ اپنے ساتھ لشکر نہیں لائے تھے۔لیکن جب حضرت ہارون سے کہتے ہیں۔یہ تم نے کیا کیا۔تو وہ کہتے ہیں۔غلطی ہو گئی حضرت ہارون بھی ایک ہی تھے اور حضرت موسی بھی ایک ہی۔لیکن جب حضرت موسیٰ آگئے۔تو سارے کانپنے لگتے ہیں۔اور جب انہوں نے کہا کہ مشرکوں کو قتل کرو۔تو باپ بیٹے کو اور بیٹے باپوں کو قتل کر دیتے ہیں۔یہ اسی قوت کا نتیجہ تھا۔جو حضرت موسی میں پائی جاتی تھی۔اور یہی قوت ہوتی ہے۔جس کا موقع اور محل پر استعمال قوموں کو ہلاکت سے بچا دیتا ہے۔اور اس کی کمی کی وجہ سے جماعتیں ہلاک ہو جاتی ہیں۔اس عرصہ میں ڈاک کا انتظام یہ کیا گیا کہ جو دوست خط لکھنا چاہیں۔وہ بدستور قادیان کے پتہ پر خط لکھیں۔کیونکہ سب لوگوں کے مقدور میں یہ نہیں کہ اپنے خطوں پر تین تین آنے کے ٹکٹ لگائیں۔پھر سب کو میرا پتہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ آج ہم کہاں ہیں۔اور کل کہاں ہوں گے۔ایک ماہ کا تو سفر ہی ہے۔اس لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔کہ ہفتہ کی ڈاک کا اکٹھا پارسل بنا کر بھیج دیا جائے۔اس طرح غرباء بھی خط و کتابت کر سکیں گے۔کیونکہ وہ دو پیسے کا کارڈیا ایک آنہ کا لفافہ ہی بھیج سکتے ہیں اور پارسل پر کوئی زیادہ خرچ نہیں ہو گا۔متفرق خطوط پر اگر پچاس روپے فی ہفتہ خرچ ہوں گے۔تو اس طرح دو تین روپیہ میں پارسل چلا جائے گا۔پس جن دوستوں نے خطوط لکھنے ہوں۔وہ اپنے خطوط قادیان میں بھیج دیں۔اور خط پر لکھ دیا جائے کہ یہ خط ان (حضرت خلیفتہ المسیح) کو بھیجا جائے۔جن خطوط پر یہ لکھا ہو گا۔وہ مجھے بھیج دیئے جایا کریں گے۔ورنہ باقی خطوں کو یہاں ہی کھولا جائے گا اور ان کا مناسب جواب دے دیا جائے گا۔اس کے بعد میں جماعت کو عام ہدایت کرتا ہوں کہ یہ سفر محض اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام کی تبلیغ کے لئے وہ رستے تلاش کئے جائیں۔جن سے اسلام دنیا میں آسانی سے پھیل جائے۔اس وقت اسلام کے رستہ میں کوئی مذہب روک نہیں۔بلکہ یورپ کا تمدن روک ہے عیسائیت اور ہندو مذہب ٹوٹ چکے ہیں۔ان کا لوگوں پر کچھ اثر نہیں رہا۔لوگ انہیں ترک کرنے کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ ترک کر چکے ہیں۔لیکن لوگ اس بات کے لئے تیار نہیں کہ اپنی عادتیں چھوڑ دیں ہم نے اس وقت یہ دیکھنا ہے کہ لوگوں کی وہ عادتیں جو اسلام کے خلاف ہیں۔ان کی کیونکر اصلاح کی جا سکتی ہے اور وہ عادتیں جو اسلام کے تو خلاف نہیں۔لیکن خلاف سمجھی جاتی ہیں۔انہیں کس طرح اسلام کے مطابق ثابت کیا جا سکتا ہے۔پھر وہ عادتیں جو اسلام کے لئے مفید ہیں۔ان سے کیوں کر