خطبات محمود (جلد 8) — Page 459
459 نکلے گا۔اس لئے جو باتیں بالصراحت حضرت مسیح موعود کے خلاف ہوں۔وہ یقیناً " غلط ہیں کیونکہ آم کی گٹھلی سے آم ہی نکلتے ہیں کیکر نہیں نکلتے۔دیکھو تم ایسے زمانہ میں پیدا کئے گئے ہو۔جس کی تیرہ سو سال سے لوگ خواہش کرتے چلے آئے ہیں۔امام شافعی، ابن حزین، ابن حجر، ابن قیم محی الدین ابن عربی، عبد القادر جیلانی، شهاب الدین سہروردی۔یہ لوگ اور حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ حضرت عثمان " حضرت علیؓ جن کے متعلق مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آئمہ سے بڑھ کر ہیں۔ان سب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود ہیں اور پہلے جن کا ذکر کیا گیا ہے وہ وہ ہیں جو حسرتیں کرتے فوت ہو گئے ہیں کہ ہمیں مسیح موعود کا زمانہ میسر ہو۔ہمیں چاہیئے کہ اس زمانہ کو قائم رکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔نہ کہ اپنے وہموں سے اس کو بدلنے کی کوشش کریں۔اگر کوئی شخص ایک بال بھر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف چلتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں تباہی کی بنیاد رکھتا ہے اور وہ جواب دہ ہو گا۔خدا تعالیٰ کے حضور اس تباہی اور بربادی کا۔اور دوسرے نبی کے آنے تک جتنے گناہ ہوں گے وہ ایسے لوگوں کی گردن پر ہوں گے۔پس تمہارا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کو ایسی مضبوطی سے پکڑو۔جیسے سمندر میں ڈوبنے والا اس رسہ کو پکڑتا ہے جو اس کے بچانے کے لئے پھینکا جاتا ہے۔اگر تم یہ رستہ اختیار کرو گے تو دنیا ترقی اور عروج حاصل کر سکو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو سوائے اس کے کہ سمندر کی تہ میں مچھلیوں کا لقمہ بنو اور کوئی ٹھکانا نہیں۔خدا تعالیٰ اس قسم کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے اور اس تعلیم پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق دے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے۔میں نے اس وقت جن دو مسائل کا ذکر کیا ہے انہیں جن لوگوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ مخلص لوگ ہیں۔اور میں نے اس خیال سے ان باتوں کے متعلق بیان نہیں کیا کہ فی الواقعہ انہوں نے یہ کہا ہے کیونکہ جب تک ان سے دریافت نہ کر لیا جاوے۔میرا حق نہیں ہے کہ میں کہوں انہوں نے یہ کہا ہے میں ان کو مخلص سمجھتا ہوں۔بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ مخلص ہیں اور میرا ہرگز یقین نہیں کہ انہوں نے اس طرح کہا ہو۔اس وقت میں نے ان مسائل کو علمی طور پر بیان کر دیا ہے ناکہ اگر کسی کے ایسے خیالات ہوں تو ان کی اصلاح ہو جائے ورنہ میں ان باتوں کو کسی کی طرف منسوب نہیں کرتا۔کئی دفعہ غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں۔کہنے والے کا کچھ اور مطلب ہوتا ہے اور سننے والا کچھ اور سمجھتا ہے۔بارہا ایسا ہوا کہ میرے سامنے ایک بات بیان کی گئی ہے۔میں نے اسے کچھ