خطبات محمود (جلد 8) — Page 409
409 کھڑے کئے جائیں تو دوسروں کی فتوحات ہمیں کیا نفع دے سکتی ہیں۔پس ضرورت ہے کہ ہم اپنی ساری طاقتیں تبلیغ کے لئے صرف کریں۔تبلیغ ایسا کام نہیں جو دوسروں پر چھوڑا جاوے اور نہ یہ ہندوؤں کا اشنان ہے کہ ایک ہندو نے سردی کے مارے دوسرے کے نہانے کو اپنا نہانا سمجھ لیا تھا۔تم میں سے ہر ایک کو یہ کام خود کرنا ہو گا اور جب تک ہمارا ہر فرد سکندر کا سا حوصلہ و ہمت نہیں رکھتا۔ہم کو دنیا کی فتح کی امید نہیں ہو سکتی۔آخر سوچو کہ نبیوں کی جماعتوں کو ایسی فتوحات دی گئیں۔جو دوسرے بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی نصیب نہ ہوئیں۔کیا وجہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کو سکندر سے بڑھ کر فضیلت حاصل ہے۔اسی لئے کہ وہ اپنی ہمت اور ارادہ میں سکندر سے بڑھ کر تھے۔ہر فرد ان صحابہ میں سے یہ سمجھتا تھا کہ ساری دنیا اگر کفر پر ہے تو میں اکیلا ہی اسے فتح کرلوں گا سکندر پھر بھی اپنی فوج پر نظر رکھتا تھا لیکن انبیا کی فوج کا ہر فرد یہ ہمت رکھتا ہے کہ دوسرے پر بھروسہ نہیں رکھنا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی ہمت دیکھو۔ایک دفعہ نبی کریم نے مردم شماری کا حکم دیا کہ شمار کرو کتنے مسلمان ہیں عرض کیا گیا ہے کہ یا رسول اللہ تقریباً سات سو کی تعداد ہے اور پھر خود ہی حیرت ظاہر کی کہ یا رسول اللہ اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں۔کیا اب بھی دنیا سے مغلوب ہو جاویں گے اور دنیا ہم کو تباہ کر دے گی۔اب ہم کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔۲؎ کجا وہ حالت اور کجا یہ کہ ذرا سی قربانی پر بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں۔میں نے ابھی تھوڑے دن ہوئے چندہ کا اعلان کیا تھا۔بعض مخلصین نے تو یہاں تک لکھا کہ جو آپ نے لکھا ہے کہ میرے چندہ مانگنے سے کوئی یہ نہ کہہ دے کہ چندہ ہی چندہ ہوتا رہتا ہے۔ہم نہیں سمجھتے کہ وہ کون سا احمدی ہے جس کے متعلق یہ کہا جاوے کہ وہ ایسا کہے گا۔ہم تو اس انتظار میں رہتے ہیں کہ آپ کوئی خدمت دین کا موقعہ بتائیں اور ہم پر آپ کا احسان ہوتا ہے کہ آپ ہمارے لئے مبارک موقع سوچتے رہتے ہیں اور ہمیں بھی ایسے موقعہ پر شریک فرماتے ہیں۔مگر کئی ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے افسوسناک کلمات کہے بعض جگہ سے خطوط آئے کہ بعض نے ایسا کہہ بھی دیا ہے کہ ہر وقت چندہ ہی چندہ کی آواز آتی رہتی ہے۔بیشک منافقین کی جماعت ہر قوم میں ہوتی ہے۔اور اس کا ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ دوسروں کے لئے ہوشیاری کا باعث ہوتی ہے۔مگر اس سے خوش نہ ہونا چاہیئے۔منافق ضرور ہوتے ہیں۔مگر بابرکت نہیں ہوتے بیماریاں ہوتی اور موت آتی ہے۔مگر کون چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ بیمار رہے یا اس پر موت آئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ