خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 364

364 دعاؤں کو سننے کے لئے سماء الدنیا پر آجاتا ہے۔اور کہتا ہے اے میرے بندو دعا مانگو میں سنتا ہوں خدا کے سماء الدنیا پر آنے سے مراد یہ نہیں کہ نعوذ باللہ خدا مجسم ہے اور وہ قریب آجاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اخلاص کے لحاظ سے کمزور اور کم طاقت رکھنے والی دعا کو بھی سنتا ہے۔دعا میں جس قدر اخلاص ہو گا اسی قدر اس میں زیادہ قوت ہو گی اور وہ زیادہ بلندی تک جا سکے گی۔اور جتنی کمزور ہو گی۔اتنی نیچی رہے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ رمضان میں وہ دعائیں جو زیادہ بلندی پر جانے کے قابل نہیں ہوتیں وہ بھی خدا تعالیٰ قبول کر لیتا ہے۔دعا مومن کا تیر ہے۔جسے وہ چلاتا ہے لکھا ہے کہ کوئی بزرگ تھے۔جن کے مکان کے قریب بادشاہ کے وزیر کا مکان تھا۔اس کے ہاں ساری رات گانا بجانا اور ناچ ہوتا رہتا تھا۔جس سے ہمسائیوں کو تکلیف ہوتی تھی۔چونکہ وہ بادشاہ کا درباری تھا۔اس لئے کوئی شخص اس کو روکنے کی جرأت نہ کرتا تھا۔ایک دن اس بزرگ نے جا کر اس کو کہا کہ آپ کے اس طرز عمل سے ہمسائیوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس نے کہا میں تمہاری نیند کے لئے اپنے عیش کو نہیں چھوڑ سکتا جاؤ پولیس میں رپورٹ کرو اس بزرگ نے کہا بہتر ہے کہ تم باز آجاؤ ورنہ میں سہام اللیل یعنی رات کے تیروں سے مدد چاہوں۔اس نے پوچھا کہ وہ کیا ہیں؟ بزرگ نے کہا کہ وہ رات کی دعائیں ہیں یہ فقرہ ایسے جوش اور اخلاص سے کہا گیا تھا کہ وہ شخص کانپ گیا اور اس نے توبہ کی کہ میں آئندہ شور و شر نہیں کروں گا۔آپ سام الیل نہ چلا ئیں۔تو دعا ایک تیر ہے اور تیر جس قدر زور سے چلایا جائے۔اتنا ہی دور جاتا ہے۔اور اگر آہستہ چھوڑا جائے تو دور نہیں جاتا۔قریب ہی گر جاتا ہے۔وہ دعا جو پختہ ایمان والے مومن کی ہو گی۔وہ چونکہ جوش خشوع اور خضوع سے کی جائے گی۔اس لئے وہ اس زور والے میری طرح ہو گی جو بوجہ اپنی تیزی اور زور کے دور تک پہنچتا ہے ایسی دعا عرش تک پہنچ جائے گی اور وہ دعا جو کمزور ایمان والے کی ہوگی۔اس تیر کی طرح ہو گی۔جو قریب ہی گر جاتا ہے اور یہ دعا سماء الدنیا تک پہنچے گی لیکن رمضان میں یہ بھی قبول ہو جائے گی۔سات آسمانوں سے مراد سات درجے ہیں۔جس جس درجہ کی کوئی دعا ہوتی ہے۔اس اس درجہ کے آسمان پر سنی جاتی ہے۔تو دعاؤں کی قسمیں بھی سات ہیں۔وہ کمزور ایمان والے لوگ جو اتنی ایمانی طاقت نہیں رکھتے کہ ان کی دعا عرش تک پہنچے۔وہ جب رات کے پچھلے پر دعا کرتے ہیں تو خدا اسی کو قبول کر لیتا ہے۔یہ مطلب ہے۔خدا کے نچلے آسمان پر ہونے کا اور عرش پر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ بہت اور الی دعا کو خدا سنتا ہے اور وہ تیر جو زور سے جاتا ہے۔اس کو قبول کرتا ہے۔ورنہ خدا تو