خطبات محمود (جلد 8) — Page 333
333 مجھے ولا الضالین تک تغییر سکھائی۔جب وہ اس قدر تغییر سنا چکا۔تو میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت اس تفسیر میں سے ایک دو نہایت لطیف نکتے مجھے یاد تھے۔میں نے خیال کیا۔صبح لکھ لوں گا اور پھر سو گیا۔لیکن صبح کو جب اٹھا تو وہ بھی بھول گئے۔ان دنوں میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے طب پڑھا کرتا تھا۔یہ رویا انہیں سنائی۔تو فرمانے لگے۔واہ میاں اسی وقت وہ باتیں لکھ لینی چاہئے تھیں۔میں نے کہا۔میں نے سمجھا صبح تک یاد رہیں گی جو نہ رہیں۔مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ مجھے سکھایا گیا تھا۔وہ یاد رکھنے کے لئے نہ تھا۔بلکہ ایک ذخیرہ تھا۔جو میرے دماغ میں بھرا گیا۔اس رڈیا کے بعد جب بھی میں سورۃ فاتحہ کو پڑھتا ہوں اسی وقت مجھے اس کے نئے معانی سمجھائے جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور پھر حضرت مسیح موعود نے سورہ فاتحہ پر بہت زور دیا ہے۔اور اس کے نکات اور معارف کا دائرہ بہت وسیع بتایا ہے۔ہم ایمانی طور پر اس بات کو مان سکتے تھے۔لیکن ذاتی طور پر دعوئی نہیں کر سکتے تھے۔اب اپنے تجربہ کی بنا پر میں یقین اور حق الیقین پر پہونچا ہوں کہ اس میں سے بڑی بڑی تفسیریں نکلتی ہیں۔اور اس میں اس قدر معارف اور نکات ہیں جو کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔معیار صداقت کے متعلق بھی میں نے دیکھا ہے۔اگر باقی قرآن کریم کو نہ بھی دیکھیں۔تو بھی سورۃ فاتحہ ہی اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔اس میں ایک معیار پیش کیا گیا ہے۔اس سے بچے اور جھوٹے مدعی نبوت کو با آسانی پر کھا جا سکتا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کوئی نبی صرف اس لئے نہیں مبعوث کیا جاتا کہ وہ اپنا نمونہ لوگوں کو دکھا کر چلا جائے۔اور لوگوں کو کچھ نہ دے جائے۔اگر ایسا ہوتا اور نبی کی بعثت کی غرض صرف نمونہ دکھانا ہوتی۔تو قرآن کریم میں اعدنا الصراط المستقيم نہ آتا۔بلکہ امدنی الصراط المستقیم آتا۔مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خدا تعالٰی فرماتا ہے۔یہ کہو کہ اے خدا ہم کو سیدھا رستہ دکھا اور ہمیں کامیاب کر۔یہ نہیں سکھاتا کہ کہو مجھ کو کامیاب کر۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کوئی اور الفاظ نہیں رکھے۔اور دوسروں کے لئے کوئی اور بلکہ ایک ہی الفاظ سب کے لئے رکھے ہیں پس اگر کوئی نہی یہ دعوی کرتا ہے۔کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے انعام ملے۔لیکن آگے اس کے اتباع کو وہ انعام نہ ملیں تو سب لوگ یہی سمجھیں گے کہ اسے کچھ نہیں ملا۔نبوت کا دعویٰ کرنے والا اگر زبانی سناتا رہے کہ مجھے خدا نے یہ کچھ دیا ہے۔مگر عملی طور پر کسی کو کچھ نہ دلائے تو اس کے آنے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔مثلاً کوئی شخص آئے اور ایک لڑکے کو کہے کہ میں تمہارے باپ کے پاس سے آیا ہوں۔اس نے