خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 300

300 51 فرموده ۲۵ جنوری ۱۹۲۴ء) سورہ فاتحہ کی لطیف تفسیر مشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا میں بوجہ گلے کی تکلیف کے زیادہ نہیں بول سکتا۔لیکن چونکہ خطبہ جمعہ ہی ایک ایسا موقع ہوتا ہے۔جس میں ارد گرد کے دوست اکٹھے ہوتے ہیں۔اور بعض باتوں کے سننے کا ان کو موقع ملتا ہے۔اس لئے میں خود ہی اختصار کے ساتھ خطبہ پڑھانے کے لئے کھڑا ہو گیا ہوں۔میرا یہ طریق ہے کہ ہمیشہ اور اگر ہمیشہ نہیں تو کبھی کبھی رہ جاتا ہو گا۔لیکچر یا خطبہ سے پہلے سورۃ فاتحہ پڑھتا ہوں۔میرے نزدیک یہ سورۃ ان تمام امور پر مشتمل ہے۔جن کی طرف اسلام متوجہ کرتا ہے۔اس سورۃ کا ایک ایک لفظ اپنے اندر وسیع مطالب رکھتا ہے۔اور جیسا کہ ایک عرصہ سے مسلمانوں کا خیال چلا آتا ہے قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ اس میں بیان کیا گیا ہے اس سورۃ کو اللہ تعالی نے بسم اللہ کے بعد جو کہ تمام سورتوں کی کنجی ہے اور سورہ فاتحہ سے اس کو خصوصیت نہیں۔الحمد للہ سے شروع فرمایا ہے۔اور غیر المغضوب عليهم ولا الضالین پر ختم کیا ہے۔بظاہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص حمد سے کام شروع کرتا ہے وہ مغضوب علیہم اور ضال جماعت میں پڑنے کے خطرے میں کیونکر پڑ سکتا ہے۔ایک ایسا کامل الایمان کہ جو ساری خوبیاں خدا کے لئے سمجھتا ہو اور جسے خدا کے سوا کسی ذات میں خوبی کا خیال نہ ہو کیونکہ حمد کا لفظ مصدر ہے اور یہ صیغہ معروف و مجہول کا مصدر ہے۔پس حمد کے معنے ہیں حمد کرنا اور کیا جاتا۔جب انسان الحمد للہ کہتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ نہ تو مجھ میں یہ طاقت ہے کہ کسی کی حمد کر سکوں اور نہ خود کسی حمد کا مستحق ہوں۔اور میرے علاوہ جو مخلوق ہے۔وہ بھی مستحق نہیں کہ اس کی حمد کی جائے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ایسا سمجھتا ہے۔جو حمد کی مستحق ہے۔اور جو کسی کی متحد کر سکتی