خطبات محمود (جلد 8) — Page 296
296 اسی کا کہ انہوں نے جنگ کا سامان مہیا کرنے کی طرف توجہ نہ کی۔شخص اسی طرح آج بھی اگر کوئی نادان یہ سمجھے کہ یوں ہی کام ہو جائے گا۔تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔اس زمانہ کو خدا نے اشاعت ہدایت کا زمانہ قرار دیا ہے اور یہ زمانہ دلائل کا زمانہ ہے۔تلوار کا نہیں آج جو جہاد ہوتا ہے۔وہ تقریر اور تحریر سے کیا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تلوار چلانا نہیں سیکھتا تھا۔وہ قومی مجرم تھا۔کیونکہ وہ زمانہ تلوار سے جہاد کرنے کا تھا۔اور آج جو شخص تقریر اور تحریر میں مشق بہم نہیں پہنچاتا۔وہ بھی مجرم ہے۔آج جو شخص اپنی زبان اور اپنے قلم کو تیز نہیں کرتا وہ اس زمانہ کی جنگ کے لئے گویا نہ تلوار کو تیز کرتا ہے نہ اس کو استعمال کرنا سیکھتا ہے۔اس لئے اگر اس کے دل میں اشاعت اسلام کی خواہش اور تمنا ہے۔تو یہ کچی تمنا نہیں۔بلکہ جھوٹی ہے۔کیونکہ جو شخص دشمن پر فتح پانے کے لئے جاتا ہے۔وہ نہتا نہیں جایا کرتا۔بلکہ جس قدر اس سے ممکن ہوتا ہے۔لڑائی کا سامان لے کر جاتا ہے۔اسی طرح اس جنگ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔کہ جو اس میں کامیابی حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو۔وہ ان سامانوں کو مہیا کرے۔جو اس میں فتح پانے کے لئے ضروری ہیں۔اور اس کے بعد خدا کی نصرت کا امیدوار رہے۔قرآن کریم میں مقابلہ کے لئے تیاری نہ کرنے والوں کو منافق قرار دیا گیا ہے کہ ولو ارادوا الخروج لا عدو الدعدة (التوبہ ۴۶) اگر ارادہ کرتے مخالف کے مقابلہ میں نکلنے کا تو یقیناً اس کے لئے پہلے سے کچھ سامان بھی تیار کرتے۔چونکہ وہ تیاری نہیں کرتے۔اس لئے معلوم ہوا کہ ان کا ارادہ ہی نہیں ہوتا۔اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ صرف ان کی زبانی باتیں ہوتی ہیں۔جو قوم پہلے سے تیار نہیں ہوتی۔وہ وقت پر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔یہ زمانہ دلائل اور براہین سے اشاعت اسلام کرنے کا ہے۔اس لئے اگر ہماری جماعت تقریر کرنے او رلکھنے کی مشق نہیں کرتی۔تو پھر وہ اشاعت اسلام کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔گو میں نے بار بار مختلف اوقات میں ادھر توجہ دلائی ہے۔مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔جماعت کے احباب چندہ دینے میں چست ہیں۔گو کئی لوگ چندے میں بھی سستی کرتے ہیں۔مگر عموماً چندوں میں ست نہیں لیکن میں دیکھتا ہوں۔جماعت کی اس طرف توجہ کم ہے کہ جو قلم چلانا جانتے ہیں یا چلا سکتے ہیں وہ قلم سے کام لیں یا جو تقریر کر سکتے ہیں یا تقریر کرنا سیکھ سکتے ہیں۔وہ زبان سے کام لیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ عالم جو موقع پر حق نہ کہے۔شیطان اخرس یعنی گونگا شیطان ہے۔اول تو شیطان