خطبات محمود (جلد 8) — Page 293
293 مثلاً کئی لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ دعا کیجئے۔ہمیں خدا مل جائے۔یا ہمارا فلاں کام ہو جائے۔مگر اس کے بعد وہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نے کیا کہا اور ہمیں کیا کرنا چاہئے۔اور وہ خدا کے ملنے اور کام کے انجام پانے کے متعلق کوئی کوشش نہیں کرتے۔مشہور ہے ایک بزرگ کے پاس ایک شخص گیا اور درخواست کی میرے لئے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔بزرگ نے کہا ہم دعا کریں گے اس کے بعد وہ جس سمت سے آیا تھا۔اس سے دوسری طرف جانے لگا اس بزرگ نے پوچھا کہ تم کدھر جاتے ہو اس نے جواب دیا کہ میں فوج میں ملازم ہوں چھٹی پر آیا تھا۔اب جاتا ہوں۔دو سال وہاں رہوں گا انہوں نے فرمایا پھر میری دعا سے کیا حاصل؟ جبکہ تو وہ طریق اختیار نہیں کرتا۔جس سے کہ اولاد پیدا ہوتی ہے اسی طرح لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کام ہو جائے۔مگر وہ کوشش نہیں کرتے۔ان کی مثال اس عورت کی سی ہے جو روٹی تو پکائے نہیں۔مگر خواہش کرے کہ پھلکے پک جائیں لیکن میں نے بتایا ہے۔عورتوں میں ایسا خیال اور ایسی خواہش کرنے والی کوئی عورت نہیں ہوتی۔مگر تم مرد کہلانے والوں میں کئی ایسے ہیں جو خواہش کرتے ہیں۔مگر کوشش اور صحیح ذرائع کے ماتحت کوشش نہیں کرتے۔آج میں جس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کی خواہش ہے کہ اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے۔یہ ان کی خواہش کچی ہوتی ہے۔جس وقت وہ اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔اس وقت ان کی آنکھوں میں ایک صداقت کی چمک ہوتی ہے۔اور ان کے چہرے پر صداقت کے آثار ہوتے ہیں۔ان کی آواز ان کے ہونٹ غرض ان کے چہرہ کی حالت بتاتی ہے کہ یہ بات ان کے دل سے نکل رہی ہے۔جب میں ان کی یہ حالت دیکھتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ ان کی یہ خواہش کچی ہے۔لیکن اس خواہش کے ساتھ جب میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ کوشش نہیں تو پھر حیران ہو تا ہوں کہ ان کی یہ خواہش کیسے پوری ہو سکتی ہے۔ساری دنیا کو اسلام قبول کرانے کا کتنا بڑا کام ہے۔یہ ساری دنیا سے جنگ ہے اور جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایک ملک کے فتح کرنے کے لئے کتنی طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اس کے لئے کسی قدر کوشش اور محنت کی ضرورت ہے۔ٹرانسوال کتنی چھوٹی سی ریاست ہے اس کے مقابلہ میں انگریزوں جیسی بڑی طاقت تھی۔عمر ٹرانسوال والے نہیں چاہتے تھے کہ ان کے ماتحت رہیں اس لئے وہ مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے۔اس چھوٹی سی ریاست کو زیر کرنے کے لئے انگریزوں کو چار سال تک جنگ کرنی پڑی۔بڑی بڑی