خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 277

277 زیادہ تعداد میں لوگوں کو لانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ ایمان و اخلاص کا مطالبہ کرتا ہے۔اس لئے اگر ہم اللہ تعالی کی مشیت کو پورا نہیں کرتے تو ہم اس کی مدد و نصرت کے امیدوار نہیں ہو سکتے۔اس پر ظاہر ہے کہ ہم اپنے مہمانوں کی ویسی مہمانداری نہیں کرتے جیسی کہ کرنی چاہیے۔کیونکہ نہ ہمارے پاس مہمان نوازی کے لئے آدمی ہیں۔اور نہ سامان۔دنیا کا قاعدہ ہے کہ جب کسی کے ہاں مہمان آتا ہے تو وہ مہمان کے لئے خاص کھانا پکاتا ہے مگر ہم یہ بات نہیں کر سکتے ان کی رہائش کے لئے بھی اعلیٰ انتظام نہیں کر سکتے۔کثرت تعداد کی وجہ سے بجائے چارپائیوں کے کسیر بچھاتے ہیں کہ سوئیں۔باقی اور مہمانداری کی اشیاء میں بھی ہم کمی کرتے ہیں۔اور باہر سے آنے والے احباب اس کمی پر گزارہ کرسکتے ہیں۔اگر اس کمی کے عوض کارکن احباب خوش خلقی سے مہمانوں کی تکلیف کو دور کریں تو کر سکتے ہیں۔خوش خلقی ایک ایسی چیز ہے جو تمام تکلیفوں کو دور کر دیتی ہے۔کسی کو ہر روز کھانا کھلاؤ۔مگر خوش خلقی سے پیش نہ آؤ تو وہ کھانے سے یہ نہ سمجھے گا کہ اس کی عزت کی گئی بلکہ کھانا اس کے حلق سے نہ اترے گا۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے ایک جگہ دوزخ کی ابدیت پر بحث تھی میں نے کہا کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ جہنم ابدی نہیں بلکہ ایک زمانہ کے بعد لوگ اس سے نکالے جائیں گے اور بہشت میں بھیج دئے جائیں گے۔ایک رئیس نے کہا پھر تو بڑے مزہ کی بات ہے یہاں جو جی چاہے کر لیں آخر یہاں بھی آرام وہاں بھی آرام چند دن کی تکلیف ہے۔آپ نے فرمایا آپ بازار میں چل کر دو جوتیاں کھا لیجئے پھر میں آپ کو اس کے عوض کچھ روپے دے دوں گا کہنے لگا۔مولوی صاحب آپ یہ کیسی باتیں کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ جب کہ تمہاری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی تو جہاں تمہارے باپ دادے اور دوسرے لوگ جمع ہوں گے وہاں کی رسوائی کیسے برداشت کرو گے۔پس اگر کسی شخص کی ذلت کی جائے مگر اس کو کھانے اعلیٰ سے اعلیٰ دئے جائیں تو وہ اس کو گلے میں انکیں گے۔لیکن اگر عزت کی جائے اور خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور اخلاص دکھایا جائے تو خشک روٹی اچھی معلوم ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوریوں کو ملحوظ رکھ کر اس کو ایسی حسیں عطا کی ہیں جن کے ذریعہ تمام کمزوریاں چھپ جاتی ہیں۔ان میں سے ایک خوش اخلاقی اور نیک برتاؤ ہے اگر ایک بچہ کو بادشاہ یا ملکہ اپنے محل میں لے جائے کہ تمہیں بادشاہ کے محل میں رکھتے ہیں اور اچھے سے اچھے کھانے دے اور نوکرانیاں خدمت کے لئے مقرر کر دے تو بچہ وہاں رہنے کی نسبت اپنی ماں کی گود کو ترجیح دے گا۔خواہ ماں بے چاری اس کو پھٹے پرانے کپڑے پہنانے کے بھی نا قابل ہو۔غریب سے غریب ماں باپ کا بچہ بھی اس پر خوش نہ ہوگا کہ اس کو اس کی ماں سے جدا کر