خطبات محمود (جلد 8) — Page 275
-275 46 جلسہ کے متعلق اہل قادیان کا فرض (فرمود ۲۱ دسمبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے مرسل اور مامور اور اس کے بھیجے ہوئے انسان کے احکام کے ماتحت سلسلہ عالیہ احمدیہ کا سالانہ جلسہ اس ہفتہ میں ہونے والا ہے۔تین دن تک اور زیادہ سے زیادہ چار دن تک جلسہ میں شامل ہونے والوں کا کثیر حصہ قادیان میں حاضر ہو جائے گا۔اور بعض لوگ تو فرط محبت یا فرصت کی زیادتی کی وجہ سے ابھی سے آنے شروع ہو گئے ہیں۔جیسا کہ پہلے جلسوں پر تجربہ ہوا ہے۔اللہ تعالی کی یہ سنت رہی ہے کہ ہر آنے والے سال میں پچھلے سالوں کی نسبت جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی رہی ہے۔اس دفعہ بھی ہم امید کرتے ہیں کہ پچھلے جلسوں سے زیادہ آدمی آئیں گے۔اس لئے ہمارے منتظمین جلسہ کے لئے زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہے کیونکہ تعداد کی کثرت سے ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہو گئی ہے۔معمولی جماعتوں کا انتظام بہت مشکل ہوتا ہے۔مگر جہاں سات آٹھ ہزار کا مجمع ہو اور ان کی ہر قسم کی ضروریات مہیا کرنا منتظمین کے ذمہ ہو کتنا مشکل ہے۔اگر بڑے شہروں میں اس قسم کے جلسے ہوں تو وہاں منتظمین کے لئے ایک حد تک آسانی بھی ہوتی ہے کہ ہوٹلوں وغیرہ میں کھانے اور ٹھہرنے کا انتظام ہو جاتا ہے اور پھر جمع ہونے والوں کی نسبت وہ لوگ زیادہ ہوتے ہیں۔جن کے ہاں وہ لوگ آتے ہیں۔یہ بات کسی جگہ نہیں ہوتی کہ جہاں جلسہ میں آنے والوں کی تعداد اصل باشندوں اور منتظموں سے بڑھ جائے۔کانگریس وغیرہ کے اجلاس لاہور، کلکتہ، دہلی، ہمیتی وغیرہ مقامات پر ہوتے ہیں۔ان اجلاسوں میں بیرو نجات سے شامل ہونے والوں کی تعداد دس بارہ ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی۔لیکن اگر مہمانوں کی تعداد دس بارہ ہزار ہوتی ہے تو ان شہروں کے لوگوں کی آبادی لاکھوں نفوس کی ہوتی ہے جن کا بیشتر حصہ مہمان داری کا کام کرتا ہے۔ایسے بڑے شہروں کے کئی کئی گھر ایک ایک مہمان کو رسیو کرنے والے ہوتے ہیں۔مگر ہمارے ہاں یہ خصوصیت ہے کہ مہمانوں کی تعداد میزبانوں سے بڑھ جاتی ہے۔