خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 273

7273 فضل خلیفہ پر بھی ہوتے ہیں لیکن خدا کے فضلوں میں داخل ہونے کے لئے صرف یہی روحانی دروازہ وہ اگر کوئی اپنی خواہش سے خلیفہ بنتا ہے تو اس قسم کی خلافت تو بجائے رحمت کے زحمت ہے اور ہ شخص ایک ملعون انسان ہے۔جو ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے اور کبھی بھی وہ کوئی تائید الہی نہیں حاصل کر سکتا پھر میرے نزدیک خلافت کی عظیم الشان مشکلات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خلیفہ خلافت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔وہ مجبور و معذور ہوتا ہے۔وہ اعتراض کرنے والوں کو عملی جواب نہیں دے سکتا۔ایک ہیڈ ماسٹر پر لوگوں کو اعتراض ہو۔وہ کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہیڈ ماسٹری سے استعفا دے سکتا ہے کہ لو میں اس سے الگ ہوتا ہوں۔لیکن ایک خلیفہ خلافت سے نہیں ہٹ سکتا۔اور وہ اس طرح جواب نہیں دے سکتا اور یہی وہ منصب ہے کہ اس پر قائم ہونے والے کو پیچھے ہٹنے کے اختیار سے محروم کر دیا جاتا ہے خلیفہ ہی وہ شخص ہوتا ہے کہ جس کے ہاتھ بند ہوتے ہیں اس لئے دوسرے کے مکا کا جواب نہیں دے سکتا۔اس کی زبان بھی بند ہوتی ہے اور کسی شریف انسان کے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی کمینگی نہیں ہو سکتی کہ اس شخص پر حملہ کیا - جائے۔پس جس کی زبان اور ہاتھ بند ہوں جس شخص کے ہاتھ جواب دینے سے بند ہیں۔اور جس کی زبان بھی بند ہے اس پر حملہ کرنا نہایت کمینگی ہے۔اگر خلیفہ کو دست بردار ہونے کا اختیار ہوتا تو کئی خلیفے ایسے ہوتے جو معترضوں کو کہہ دیتے کہ لو تم خلافت کو سنبھالو ہم الگ ہوتے ہیں۔لیکن چونکہ خلیفہ سے یہ اختیار چھین لیا جاتا ہے اس لئے خواہ کیسی حالت ہو وہ خلافت سے دست بردار ہونے کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔ان جوابوں کے بعد میں دونوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر اس قسم کے خیالات ان کے دل میں ہوں تو ان کو نکال دیں یاد رکھو کہ تفرقہ اندازی کسی طرح بھی مفید نہیں ہوتی۔کوئی ترقی کرنے والی بھی دنیا میں ایسی نہیں گزری جس کا ایک حصہ دینی علوم کی طرف متوجہ نہ ہوا ہو۔اور نہ کبھی کوئی ایسی قوم ترقی کر سکتی ہے جس کا ایک حصہ دنیاوی علوم کی طرف توجہ نہ کرے۔جس طرح کبھی کوئی مکان بغیر دیواروں کے نہیں بن سکتا۔اور نہ قائم رہ سکتا ہے اسی طرح وہ طبقہ جو زیادہ قابل ہو اس بات کے کہ وہ دنیوی طور پر سلسلہ کا عمود اور ستون ہو اور مالی خدمت سلسلہ کی کرے۔اس کے نہ ہونے سے بھی ایسی جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔اسی طرح اگر مولویوں کو نکال دیا جائے تب بھی جماعت قائم نہیں رہ سکتی۔اور نہ ترقی کر سکتی ہے۔یہ جماعت نہ انگریزی دانوں سے بنی ہے۔اور نہ مولویوں سے۔جماعت میں انہی دو طبقوں کے لوگ نہیں ہیں۔بلکہ جماعت کا ۹۸ فی صدی حصہ ان دونوں کے علاوہ بھی ہے اور وہ زیادہ سلسلہ کا کام کرتا ہے۔ہاں ایک بات رہ گئی کہ ایک انگریزی