خطبات محمود (جلد 8) — Page 265
265 45 بعض بدلتیوں کا ازالہ (فرموده ۱۲ / دسمبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں نے پچھلے سے پچھلے خطبہ جمعہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ تمام کارخانہ عالم کا دارد مدار حسن ظنی پر ہے۔اگر ہم حسن ظنی کو ترک کر دیں تو کوئی صیغہ انتظام کے ساتھ نہیں چل سکتا۔نہ بیوی بچوں کے تعلقات درست رہ سکتے ہیں نہ دوست دوستوں کے ساتھ تعلق رکھ سکتا ہے۔نہ سودا لینے والا کوئی سودا لے سکتا ہے۔اور نہ سودا بیچنے والا سودا بیچ سکتا ہے۔نہ حاکم محکوم تعلق رکھ سکتا ہے۔نہ شہروں اور محلوں کے تعلقات درست رہ سکتے ہیں۔غرض کوئی بھی شعبہ زندگی ایسا نہیں ہے جس میں حسن ظنی چھوڑی جا سکتی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک کام حسن ظنی سے ہی شروع ہوتا ہے۔جب تک اس کے ابتدا میں حسن ظنی نہ ہو تب تک وہ کام شروع ہی نہیں ہو سکتا۔میں نے اس خطبہ میں بتایا تھا کہ یہ مضمون تمہید کے طور پر ہے اور اگلے جمعہ میں اصل مضمون بیان کروں گا لیکن اللہ تعالٰی کی حکمت کے ماتحت پچھلے جمعہ مولوی عبید اللہ صاحب کی وفات کی اطلاع ملی جس پر مجھے کچھ بولنا پڑا اور وہ مضمون بیان نہ کر سکا۔اس لئے آج میں اس مضمون کو بیان کرتا ہوں جس کی پچھلے جمعہ میں تمہید بیان کی تھی۔پچھلے دنوں جب میں لاہور گیا تو وہاں ایک عزیز نے بعض باتیں میرے پاس بیان کیں۔وہ باتیں ایسی تھیں کہ ان کا دل کے اوپر نہایت ہی گہرا اثر پڑتا تھا کیونکہ وہ تمام بدظنی پر مبنی تھیں اور نہایت خطرناک نتائج پیدا کرنے والی تھیں۔ان سے ایسا خطرناک نتیجہ پیدا ہو سکتا تھا کہ اس کے مقابلہ میں پیغامیوں کا فتنہ بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔چونکہ وہ اہم معاملہ تھا اس لئے میں نے فوراً چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو تحقیقات پر مقرر کیا۔اس تحقیقات کے نتیجہ میں جو رپورٹ انہوں نے پیش کی اس سے معلوم ہوا کہ راوی نے وہ باتیں واقع میں بیان کی تھیں۔اس کا نام تو میں لینا پسند نہیں کرتا۔کیونکہ جس نے وہ باتیں بیان کی تھیں وہ ایک نا تجربہ کار بچہ تھا اس کو ابھی بہت کچھ