خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 263

263 وسلم محفوظ ہیں۔صحابی نے کہا میری طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دینا کہ جب اس کو یہ معلوم ہوا کہ آپ محفوظ ہیں تو اس نے آرام سے جان دی۔اور میری قوم سے کہنا کہ مرتے دم تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں۔وہ ان میں خدا کی امانت ہیں۔ایسا نہ ہو کہ انکو نقصان پہنچے۔۴؎ تو صحابہ میں ایسے ایسے نمونے تھے یہی وجہ ہے کہ ہمارے دلوں میں ان کی عزت اپنے آباء و اجداد سے بھی بہت زیادہ ہے۔آباء و اجداد میں نے زبان کے محاورہ کے طور پر کہا رپرا ہے ورنہ خدا کی قدرت نے مجھے ایک ایسے انسان کی نسل سے پیدا کیا ہے جو اپنے عملوں اور قربانیوں کے باعث پچھلے لوگوں سے فائق ہو گیا اور درمیانی رشتہ توڑ کر اپنے آقا محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے براہ راست جا ملا۔اس کو چھوڑ کر دادا اور اس سے اوپر کی تمام نسلوں کی تعریف میں اگر کتنے ہی بڑے بڑے قصائد پڑھے جائیں تو بھی ہمارے خوشی ظاہر کرنے والے اعصاب میں جنبش نہیں پیدا ہو سکتی۔لیکن اگر ان صحابہ کی تعریف کی جائے جو ہماری قوم اور ملک کے نہیں تھے مگر جو دین کی خدمات کے باعث ہمیں اپنے پیاروں سے زیادہ پیارے ہیں تو جسم میں خوشی کی لہریں دوڑنے لگتی ہیں۔ہماری ہندوستان کی جماعت میں تاحال اس قسم کے نمونے بہت کم ہیں جو صحابہ میں پائے جاتے ہیں۔اور پھر ایسے بہت کم ہیں جو خدمات دین کے اقرار کو نباہنا جانتے ہوں۔بہت ہیں جو قربانی کرنا نہیں جانتے یا نہیں کرتے یا نہیں بنا ہے۔مگر مولوی عبید اللہ ہمارے ملک میں سے تھا جس نے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ دین کے لئے زندگی وقف کرنا اور پھر اس عہد کو نباہنا دونوں باتوں کو جانتا تھا۔ہماری جماعت میں پہلے شہید حضرت سید عبد اللطیف تھے۔یا دوسرے کہ ان سے پہلے ان کے ایک شاگرد شہید ہوئے تھے۔مگر وہ ہندوستان کے نہ تھے۔بلکہ ہندوستان کے باہر کے تھے۔ہندوستان میں سے شہادت کا پہلا موقع عبید اللہ کو ملا۔ہمیں اس کی موت پر فخر ہے گو اس کے ساتھ صدمہ بھی ہے کہ ہم میں سے ایک نیک اور پاک روح جو خدا کے دین کی خدمت میں شب و روز مصروف تھی جدا ہو گئی۔میں ان کے لئے خدا سے دعا کرتا ہوں اور ان کے پس ماندگان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ مرنے والے کو اپنے قرب کا اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبر بخشے۔پڑھ میں جمعہ کی نماز کے بعد ان کا جنازہ پڑھوں گا اور میں باہر کی جماعتوں سے امید کرتا ہوں کہ جہاں جہاں اطلاع پہنچے پہلے جمعہ میں مولوی عبید اللہ مرحوم کا جنازہ پڑھیں۔اور خطبہ میں میرا یہ خطبہ کر سنائیں۔اگر اس کے علاوہ کچھ اور بھی خطبہ میں کہنا ہو تو کہہ سکتے ہیں۔لیکن یہ خطبہ ضرور پڑھیں۔ہم مرنے والے کے لئے دعا ہی کر سکتے ہیں۔وہ شخص جس نے اس کام کو کرتے ہوئے جان دی جس کا کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر ہم اس کی یہ چھوٹی سے چھوٹی خدمت بھی نہ کریں تو اس سے