خطبات محمود (جلد 8) — Page 245
245 حاصل نہ ہو۔پس جس قدر اہم مقصد ہو اس قدر زیادہ کوشش جب تک نہ کی جائے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کریں اور ایسی روح پیدا کریں کہ جو اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کیونکہ بستیوں سے کبھی کام نہیں چلتا۔پچھلی لڑائی کے متعلق دیکھو وہ یورپ میں ہو رہی تھی۔مگر کس طرح دنیا کے سارے ملک ملتے جا رہے تھے۔ہمارے ملک سے پانچ ہزار میل دور وہ جنگ تھی۔مگر ہمارا ملک بھی سارے کا سارا تھرا رہا تھا اور تمام لوگ اس کام میں لگے ہوئے تھے۔لیکن وہ جنگ بھی اس جنگ کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتی ہے جو تمہیں در پیش ہے۔وہاں تو یہ لڑائی تھی کہ تلواریں لے کر ایک دوسرے کو قتل کر رہے تھے۔مگر ہم نے لوگوں کے دلوں کو فتح کرنا ہے۔پھر وہ لڑائی تو چند ممالک کی دوسرے چند ممالک سے تھی۔مگر ہماری لڑائی ساری دنیا کے خلاف ہے۔اس لئے ہماری لڑائی کے مقابلہ میں وہ لڑائی حقیر ہے کیونکہ قتل کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا دل کو فتح کرنا ہے۔قتل تو آوارہ اور بدمعاش لوگ بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔لیکن کیا کوئی بدمعاش اور بد افعال انسان کسی کو بدی سے نیکی کی طرف لا سکتا ہے۔ایسے انسان کا کسی کو نیکی کی طرف لانا تو الگ رہا بہت سے نیک بھی اس میں رہ جاتے ہیں۔پس چونکہ ہماری تلوار کا کاٹ بہت دیر میں ہوتا ہے اس لئے ہمارا کام بہت مشکل ہے۔مگر ساتھ ہی عظیم الشان بھی کیونکہ ظاہری زخم اچھا بھی ہو جاتا ہے مگر ہماری تلوار کا زخم سیا نہیں جا پھر جنگ عظیم میں جو طاقتیں لڑ رہی تھیں۔ان میں تھوڑا فرق تھا۔مگر ہم دنیا کے مقابلہ میں کچھ بھی نسبت نہیں رکھتے۔ہم بہت تھوڑتے ہیں اور جن سے ہمارا مقابلہ ہے وہ بہت زیادہ ہیں اس سے سمجھ لو کہ ہمیں زندگی پیدا کرنے اور کام کرنے کی روح حاصل کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔کیا لڑائی کے زمانہ میں کوئی انگریز آرام کی نیند سوتا تھا ہر گز نہیں۔پس اگر وہ نہیں سوتے تھے اور ہم اس جنگ میں آرام سے سو جائیں۔تو معلوم ہوگا کہ یا تو ہمیں پتہ ہی نہیں کہ ہمارا مقصد اور مدعا کیا ہے۔یا ہم جان بوجھ کر اپنی ذمہ داروں سے غفلت کر رہے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لاہور کی جماعت (اس وقت میں اس کو مخاطب کرتا ہوں) جس کو میں کئی سال سے توجہ دلا رہا ہوں کہ یہ شہر جو صوبہ کا مرکز ہے اس میں خاص طور پر تبلیغ کی کوشش کرو۔اور زندہ ہو کر کام کرو۔مگر متواتر توجہ دلانے پر بھی کوئی اثر نظر نہیں آتا۔تبلیغ کے لئے انجمن بنتی ہے اور ٹوٹ جاتی ہے۔کام کرنے والوں سے پوچھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں دوسرے لوگ کام نہیں کرتے اس لئے ہم بھی کچھ عرصہ کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں بیوی بچوں سے تو زیادہ خدا کا تعلق ہے مگر کیا بیوی بچوں۔