خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 244

-244 اگر کوئی سستی کرتا ہے تو بہت ہی افسوس کے قابل ہے۔مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اپنی جماعت میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے مقصد کو ہی نہیں سمجھا۔ایک زمانہ میں انہوں نے بخشیں کیں۔وفات مسیح۔نبوت مسیح موعود کے مسائل حل ہو گئے۔تو بیعت کرلی۔مگر پھر انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ کیوں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور غیر احمدیوں سے لڑتے ہیں (لڑنے سے میری مراد دلائل سے لڑنا ہے) اگر ہم نے اپنے اندر کوئی تبدیلی نہیں کی تو دوسرے لوگوں سے اختلاف کرنے کا فائدہ کیا۔بات یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے مقصد اور مدعا کو سمجھے بغیر بیٹھ گئے انہوں نے سمجھا حضرت مسیح موعود کا مان لینا کافی ہے۔حالانکہ آپ کو مان لیتا تو ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی مقام تک پہنچنے کا رستہ پوچھ لیا جائے اور صرف رستہ پوچھ لینے سے کوئی اس مقام تک کس طرح پہنچ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود کا ماننا ایسا ہی ہے جیسے رستہ پوچھ لیا۔آگے عمل کا درجہ شروع ہوتا ہے۔مگر وہ عمل نہیں کرتے۔اور اس کو کامیابی کس طرح ہو سکتی ہے جو صرف یہ کہے کہ میں نے مان لیا۔مگر آگے محنت نہیں کرتا۔اگر وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو مان لیا۔ان کی قربانیوں اور سروں کی قربانیوں میں زمین و آسمان کا فرق نہیں تو پھر ان کا مان لیتا ایسا ہی جیسا کہ دروازہ پر پہنچ کر کوئی اندر نہ داخل ہو۔اور ایسے لوگوں کی حالت ان سے بد تر ہے جن کو اس مقام کا ابھی پتہ نہیں رو لگا۔دیکھو اگر ایک شخص پیاسا ہو۔مگر اسے پانی کا پتہ نہ ہو کہ کہاں ہے تو قابل الزام نہیں ہوگا قابل افسوس ہو گا۔مگر ایک شخص جسے پیاس لگی ہوئی ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ فلاں جگہ پانی ہے مگر پیتا نہیں تو وہ قابل افسوس بھی ہے اور قابل ملامت بھی۔افسوس ہے کہ میں اپنی جماعت میں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے دعوی کو پرکھ کر قبول تو کر لیا۔مگر آگے اس کو پیش نہیں کیا اور بعض تو ایسے ہیں کہ نہ صرف دوسروں کے سامنے انہوں نے پیش نہیں کیا بلکہ اپنی جانوں کی حفاظت کے لئے جو کچھ کرنا ضروری تھا وہ بھی نہیں کیا اور انہوں نے حضرت مسیح موعود کو اس طرح نہیں مانا کہ اصل مدعا حاصل کر سکیں اور نجات پا سکیں۔میں اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ صرف مان لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا اگر فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی زندگی اس رنگ میں بتاؤ کہ تم میں اور دوسروں میں نمایاں فرق ہو۔احمدی اور غیر احمدی کی مثال میرے نزدیک اس طرح ہے کہ غیر احمدی تو بھٹکا ہوا جنگل میں پھر رہا ہے اور احمدی کو راستہ مل گیا ہے۔لیکن اس حالت تک کوئی بڑا فرق نہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ جو جنگل میں پھر رہا ہے اور راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اسے رستہ مل جائے۔اور وہ منزل مقصود پر پہنچ جائے۔مگر وہ احمدی جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لاکر یعنی کچھ راستہ طے کر کے بیٹھ جائے وہ اسی حالت میں مرجائے اور اسے کچھ