خطبات محمود (جلد 8) — Page 243
243 خدا کے رستہ میں کام لیتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاد پر جا رہے تھے کہ آپ نے فرمایا۔مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو ویسا ہی ثواب حاصل کرتے ہیں جیسا تم لوگ جو جہاد کے لئے نکلے ہو۔تم کسی وادی میں سے نہیں گذرتے جس میں وہ تمہارے ساتھ نہیں ہوتے اور تم کوئی مشقت نہیں اٹھاتے جس کا ثواب ان کو نہیں ملتا۔صحابہ نے کہا یہ عجیب بات ہے کہ وہ آرام سے گھروں میں بیٹھے اتنا ہی ثواب حاصل کر رہے ہیں جتنا جہاد کے لئے نکلنے والے۔آپ نے فرمایا وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل چاہتے ہیں کہ وہ بھی اسی طرح جہاد کے لئے نکلیں جس طرح تم نکلے ہو مگر ان کے پاس سامان نہیں اور وہ مجبور ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ ان کو بھی وہی ثواب دے گا جو تم کو دے گا۔تو دنیا کے مقاصد اور روحانی مقاصد میں دو عظیم الشان فرق ہیں۔روحانی مقصد کبھی بدلتا نہیں۔شروع سے چلتا ہے اور انتہا کو چلا جاتا ہے۔اس میں تبدیلیاں نہیں ہوتیں۔دوسرا فرق یہ ہے کہ اس کے حصول کے لئے کوشش کریں۔اور جو کمی رہ جائے اسے خدا تعالیٰ خود پورا کر دیتا ہے۔سکولوں میں تو ہوتا ہے کہ اگر کوئی طالب علم کند ذہن ہو تو وہ امتحان میں فیل ہو جاتا ہے۔لیکن اس میں یہ ہے کہ خواہ کوئی کند ذہن ہو اگر وہ محنت کرتا ہے تو فیل نہیں ہو گا۔اور یہ ایسا وسیع علم ہے کہ دین کا یہ حساب بندوں کے سپرد ہی نہیں کیا گیا۔نادان لوگ کہتے ہیں کہ جب اسلام میں اعمال کے زو سے بدلہ ملے گا تو ایک ذہین اعمال میں ترقی کرکے بڑا درجہ حاصل کرے گا اور ایک کم فہم اس سے محروم رہے گا۔مگر اس مسئلہ کو سمجھ لینے سے یہ اعتراض دور ہو جاتا ہے کہ وہ کمیاں جو کسی کو قدرت کی طرف سے ملی ہوں ان کو مد نظر رکھا جائے گا اور ان کا لحاظ رکھ کر اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ بدلہ دینا خدا تعالٰی نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے کیونکہ بندے کسی کے متعلق صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے۔ممکن ہے کہ ایک شخص کی مجبوری کی وجہ سے کوئی دینی کام نہ کر سکے۔اور لوگ سمجھ سکیں کہ سستی اور کو تاہی سے ایسا کرتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس میں یہ کمی رکھی گئی ہے اس کی وجہ سے ایسا کرتا ہے اس لئے وہ اس کو اتنا ہی بدلہ دے گا جتنا اگر اس میں کمزوری نہ ہوتی اور وہ کام کر کے بدلہ پاتا۔پس ایسے عظیم الشان مقصد اور بدلے کے ہوتے ہوئے اگر کوئی اس کے لئے کوشش نہ کرے تو اس پر افسوس بھی بہت زیادہ ہو گا۔اگر کسی کے سامنے مقصد نہ ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ اب میں کیا کروں۔مگر ایک مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ اس کو کہیں گے کہ سورۃ فاتحہ میں جو صراط مستقیم بتایا گیا ہے۔وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔اور اگر کہو کہ ہمارے پاس سامان نہیں تو کیا کریں۔اس کے متعلق کہیں گے اسلام یہ کہتا ہے جتنے سامان ہیں ان کو استعمال کرو بقیہ کا خدا بدلہ دے دے گا۔پس اس قدر آسانیوں کے ہوتے ہوئے اور اتنا اعلیٰ مقصد ہوتے ہوئے