خطبات محمود (جلد 8) — Page 242
242 کی دعا کو اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح بچے مٹھائی وغیرہ مانگتے ہیں کہ جب ان کو مل گئی تو ان کا مقصد حاصل ہو گیا۔مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ مانگتے تھے وہ کبھی نہ ختم ہونے والا مقصد تھا۔اور اگر آپ اس درجہ سے جو آپ کو حاصل تھا کروڑوں اور اربوں درجہ بھی زیادہ بڑھ جائے تو بھی آپ کا مقصد ختم نہیں ہو سکتا تھا۔یہی مقصد عالی تھا جس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ایسی روح پیدا ہو گئی تھی کہ آپ کا کوئی لمحہ ضائع نہ جاتا تھا۔کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ آپ کا اتنا اعلیٰ مقصد ہے کہ خواہ اس کے لئے آپ کتنی بھی کوشش کریں پھر بھی رستہ باقی ہی رہے گا پس نادان ہیں وہ لوگ جو اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی بڑی شان کے ہوتے ہوئے کیوں اهدنا الصراط المستقیم کی دعا کرتے تھے۔ہم کہتے ہیں آپ کی زندگی تو الگ رہی اب بھی آپ درجہ میں آگے ہی آگے چل رہے ہیں جس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تھے اس دن روحانیت کے لحاظ سے آپ جو تھے وہ آج نہیں ہیں۔آئندہ یہی نہیں رہیں گے بلکہ اور ہونگے کیونکہ ہر لمحہ اور ہر گھڑی آپ ترقی کر رہے اور آگے ہی آگے قدم بڑھا رہے ہیں۔کیونکہ آپ نے اپنی ترقی کے لئے وہ راستہ چنا ہے۔جو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتا۔پھر اسلام نے انسان کے لئے وہ مقصد رکھا ہے کہ اگر اس کے ہاتھ پاؤں شل ہو جائیں تو بھی اس مقصد کو چھوڑ نہیں سکتا اور اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اس کے لئے یہ شرط ہے کہ جیسے سامان کسی کو میسر ہوں اور جس حالت میں کوئی ہو اس کے مطابق کوشش کرے۔پس کوئی مخص اس مقصد کو اس لئے نہیں چھوڑ سکتا کہ اس کے لئے سامانوں کی کمی ہے۔بلکہ جب کوئی ایسی حالت میں ہی کوشش کرتا ہے تو جو کمیاں ہوتی ہیں وہ خدا تعالیٰ خود پوری کر دیتا ہے۔دنیاوی مقاصد کی تو یہ حالت ہے کہ مثلاً کوئی شخص موٹر پر سفر کر رہا ہو جو رستہ میں ٹوٹ جائے یا خراب ہو جائے ایسی حالت میں وہ آگے نہیں چل سکے گا۔لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ جس حالت میں بھی تم ہو گے اور جتنی طاقت تم میں ہوگی اگر وہ خرچ کر دو گے تو بقیہ کا خدا خود سامان کر کے تمہیں منزل مقصود تک پہنچا دے گا۔اگر تمہاری سواری کی گاڑی ٹوٹ جائے تو کوئی پروا نہیں۔خدا کے فرشتے تمہیں اپنی گودیوں میں بٹھا کر خدا کے پاس لے جائیں گے۔مگر شرط یہ ہے کہ تم اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کرو۔اگر کسی کے پیر ہیں اور وہ ان سے کام نہیں لیتا تو خدا کی طرف سے بھی اسے کوئی مدد نہیں ملے گی۔مگر جس کے پاؤں ہوں اور وہ ان سے کام لے تو پھر جو کمی رہ جائے اپنے خدا تعالیٰ کے فرشتے پوری کر دیتے ہیں۔اب اگر کوئی لولا لنگڑا مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا یا جس کے پاس مال نہیں وہ زکوۃ نہیں دیتا تو وہ اسی طرح اپنے مقصد کو حاصل کرے گا جس طرح ایک شخص جس کے پاس مال ہے اور وہ اس کو خدا کے لئے خرچ کرتا ہے۔ہاتھ پاؤں ہیں اور ان سے