خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 226

226 کے خدا تعالٰی نے بہت سے نام رکھے ہیں۔مگر اب جبکہ مسلمان بگڑ گئے اور خدا تعالی ان سے ناراض ہو گیا تو ان کی اصلاح کے لئے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مظہر اتم کو آپ کے سب نام دئے اور ان کی وہ تشریح دی جو اب خدا تعالیٰ پھیلانا چاہتا ہے۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ان ناموں پر غور کرے اور ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود کو جو نام دئے گئے ہیں ان میں سے ایک نام صلح کا شہزادہ بھی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس میں وہ بیچ مخفی ہے جس کا مظہر جماعت نے بنتا ہے اور جب حضرت مسیح موعود کو صلح کا شہزادہ قرار دیا گیا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ میں وہ پیج رکھا گیا جو آپ کی جماعت میں ظاہر ہوگا۔اور آپ کی جماعت دنیا کے کسی فساد عظیم کے وقت صلح کرائے گی۔بیج کے طور پر یہ بات حضرت مسیح موعود میں ہی پائی جاتی تھی مگر درخت کے طور پر آپ کی جماعت میں ظاہر ہوگی۔یہاں کسی کو یہ غلطی نہ لگے کہ ہمارا نام تو نہیں لیا گیا کہ ہمارے ذریعہ کام ہو گا اس لئے ہم کیوں اس فکر میں پڑیں یہ بات ہمیں اصل کام سے بے پروا نہیں کر سکتی کیونکہ اگر یہ نہیں بتایا گیا کہ تمہارے ذریعہ یہ کام ہو گا تو ہمیں یہ بھی تو نہیں بتایا گیا کہ تمہارے ذریعہ یہ کام نہیں ہو گا۔کہتے ہیں کوئی میراثی تھا اور کچھ کام نہیں کیا کرتا تھا۔ایسا ہوا کہ ملک میں کوئی بڑی لڑائی شروع ہو گئی جس میں ہر قسم کے لوگ بھرتی کئے جاتے تھے جیسا کہ گزشتہ جنگ کے وقت ہوتا تھا اس کی بیوی نے اسے کہا کہ تم بھی فوج میں بھرتی ہو جاؤ اس نے جواب دیا کہ یہ مجھے مت کہو۔کیا تم یہ چاہتی ہو کہ میں مرجاؤں۔اس کی بیوی نے کچھ دانے لئے اور پینے لگی جب میں چکی تو اس کو دکھایا کہ دیکھو باوجود چپکی کے دونوں پائوں میں سے گذرنے کے کچھ دانے ایسے ہیں جو نہیں پے اور جب چکی میں سے کچھ دانے سلامت نکل سکتے ہیں تو لڑائی تو ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں سب ہی مر جائیں۔اس میں باقی رہنے والوں کی مرنے والوں سے زیادہ تعداد ہوتی ہے۔پس تم بھرتی ہو جاؤ۔میراثی نے کہا کہ تو مجھے انہیں میں سے کیوں نہیں سمجھ لیتی جو لڑائی میں مرجاتے ہیں اور وہ دانہ کیوں نہیں قرار دیتی جو پس جاتا ہے۔تو جن لوگوں نے کام نہیں کرنا ہوتا وہ صاف اور سیدھی بات میں بھی حجت پیدا کر لیا کرتے ہیں اگر تم کام کرنا چاہو تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ ممکن ہے اس خطاب کے مستحق ہم نہ ہوں۔کیونکہ اگر یہ نہیں معلوم تو یہ بھی تو نہیں معلوم کہ ممکن ہے تم ہی اس کے مستحق ہو اور ممکن ہے کہ یہ مقام تمہارے ہی مقدر میں ہو۔پس یاد رکھو کہ تمہیں اس غرض سے بنایا گیا ہے کہ تم دنیا میں امن پیدا کرو۔اس وقت ہم دنیا میں ہر طرف لڑائی دیکھتے ہیں اور فساد برپا پاتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس لڑائی میں صلح کا انعام اور اس فساد کے فرد کرنے کی عزت ہماری اس نسل کو ملے یا ہماری آئندہ نسل کو مگر یہ ضرور ہے کہ ملے گی مسیح موعود ہی کی جماعت کو۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ