خطبات محمود (جلد 8) — Page 209
209 خیال رکھے۔جب ان کے سامنے اپنے آدمی موجود ہوتے ہیں جو منافق یا شریر ہیں لیکن ان کی اصلاح کا اور ان کے مقابلہ کا کسی کو خیال نہیں۔ان کی حرکات کو برا نہیں منایا جاتا تو ہماری ملی زندگی ہر وقت خطرہ میں ہوگی۔یہ مت خیال کرو کہ زہر ہمیشہ نکلتا ہی رہتا ہے کیونکہ اس کے لئے بھی میں پہلے کی طرح قانون قدرت ہی کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو تم کو یہ بتاتا ہے کہ تم اس کے شر سے بھی محفوظ رہ سکتے ہو۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ تم بے فکر ہو جاؤ۔دیکھو بیماریاں بھی تو ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ایک ہیضہ کی بیماری ہے۔اس کے متعلق بعض ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ کپڑے سے ہیضہ پھیلتا ہے اور ڈاکٹروں نے تحقیقات کی کہ کیڑا تو اب بھی موجود ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہیضہ نہیں؟ سوبات یہ ہے کہ زہر ہر وقت موجود رہتا ہے لیکن جب تک زہر کھانے والے کے اندر مادہ موجود نہ ہو تب تک اس کا اثر نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی قوم منافقوں اور شریروں سے محفوظ نہیں رہ سکتی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر وہ قوم ان کا مقابلہ کرتی رہے گی تو وہ منافق اس کے کاموں کو برباد نہیں کر سکیں گے۔لیکن اگر وہ قوم ان قومی غداروں کا مقابلہ نہیں کرتی۔ان کی حرکات پر برا نہیں مناتی بلکہ خاموش رہتی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر اس زہر کی قبولیت کا مادہ موجود ہے۔جب تک تو ان کے کاموں کو بری نظر سے دیکھا جائے گا اور ان کا مقابلہ کیا جائے گا تب تک تو وہ قوم قائم رہے گی اور تباہی سے محفوظ رہے گی لیکن جس وقت ایسے افراد ہونگے جو ان کو دیکھ کر خاموش رہیں گے وہ پہلا قدم ہو گا اس کی تباہی کا۔پس میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے افراد کا خیال رکھو اور ان کی بری حرکات دیکھ کر خاموشی مت اختیار کردو۔ہماری تمام کوششیں برباد جائیں گی اگر اپنے مستوں اور کمزورں کی اصلاح نہ کریں گے اور آئندہ نسلوں کی اصلاح ابھی سے شروع نہ کر دیں گے۔اگر یہ جماعت قرآن کی حقیقی اشاعت کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کی اصلاح کے لئے کوشش کرے۔اب تک تو ہماری کامیابی گمان اور دلائل پر ہے لیکن کیا واقع میں شرک اور کفر مٹ گیا۔کیا واقع میں دنیا داری مٹ کر اس کی جگہ دینداری قائم ہو گئی ہے۔صرف ہمیں محسوس کرا دیا گیا ہے کہ ہماری تلوار کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔حالانکہ جب تک شرک اور کفرمٹ نہیں جاتا اس وقت تک ہماری یہ خوشی خوشی نہیں۔اصل ہماری خوشی اس وقت ہی ہوگی جب اسلام کی حکومت تمام دنیا کے دلوں پر قائم ہو جائے گی۔لیکن اگر ہم قومی غداروں کا علاج نہ کریں گے تو ہماری کامیابیاں موہوم ہونگی۔اللہ تعالی جماعت کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ اپنے فرض کو سمجھے۔اور شیطان کا سر کچلا جائے اور ہمارے ہی ہاتھوں سے اس طرح کچلا جائے جس طرح کہ پہلے انبیاء نے