خطبات محمود (جلد 8) — Page 195
195 اور اس کام میں سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کی ضرورت نہیں بلکہ لاکھوں آدمیوں کی ضرورت ہے کیونکہ مجھے اس وقت وہ کچھ نظر آتا تھا جو آج دوسرے لوگوں کو نظر آ رہا ہے۔میری آنکھ بہت دور تک دیکھتی تھی۔مگر دوسروں کی آنکھ وہ کچھ نہیں دیکھتی تھی۔کام تو دونوں کو نظر آتا تھا لیکن دور بینوں کا فرق تھا۔میری آنکھ پر جو دور بین تھی۔وہ بہت دور تک دیکھتی تھی اور صاف دیکھتی تھی۔لیکن دوسروں کی آنکھ پر جو دور بین تھی وہ اس قدر دور تک نہیں دیکھتی تھی اس سے دھندلی نگاہ پڑتی تھی۔اسی لئے میں نے اپنی ابتدائی تقریروں میں ہی کھول کر بتا دیا تھا ممکن ہے اس وقت لوگ سمجھتے ہوں کہ شاید جوش دلانے کے لئے اور مبالغہ کے طور پر میں تقریر کرتا ہوں۔لیکن مجھے دنیا کے اثرات پر نظر ڈالنے سے جو اس وقت معلوم ہو تا تھا وہی درست نکلا۔اور واقعات نے ثابت کر دیا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا وہی درست تھا۔اور محض جوش دلانے کے لئے نہیں کہتا تھا۔اس وقت جتنا وقت وہاں کام کرنے کے لئے لوگوں کے ذہن میں تھا وہ قلیل وقت تھا۔جب کہ ابھی لوگوں کے خیال میں بھی نہ تھا اس وقت میں نے کہا تھا کہ یہ مت سمجھو کہ یہ سلسلہ ارتداد ملکانوں تک ہی محدود رہے گا بلکہ دوسری قوموں تک بھی چلے گا چنانچہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد یہ سلسلہ کشمیر، چسبہ سندھ وغیرہ میں بھی شروع ہو گیا اور ابھی اور علاقے ہیں جن میں ریشہ دوانیاں شروع ہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں۔مجھے ایک دوست کی طرف سے چٹھی آئی جس میں اس نے بتایا کہ ایک اور قوم کے متعلق آریہ کوشش کر رہے ہیں۔ایک مخفی چٹھی ایک آریہ سماج نے پھیلائی ہے جس کی نقل اس دوست نے بھیجی ہے تو اس وقت چھ سات قومیں ہیں جن کے متعلق یہ تحریک جاری ہے۔پس ان واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ جو کچھ میں نے بتایا تھا وہ خدا کی طرف سے القا تھا۔جوش دلانے کے لئے اور مبالغہ کے طور پر نہیں کہا تھا۔مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ میں نے قبل از وقت بتا دیا تھا کہ اس کام میں ہمیں پہلے کی نسبت بہت زیادہ طاقت اور ہمت خرچ کرنی پڑے گی اور اس فتنہ کو روکنے کے لئے بہت سی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اس فتنہ کو روکنے کے لئے جماعت کو جس قدر کوشش کرنی چاہیے تھی اس قدر کوشش سے کام نہیں لیا گیا۔میں اب بھی کہتا ہوں کہ تمام مسلمان جو ہند میں ہیں وہ اس وقت خطرہ میں ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور جو کچھ میں نے کہا تھا وہ آج واقعات سے ثابت ہو رہا ہے۔چنانچہ پچھلے دنوں بنارس میں جو ہندوؤں کی سبھا قائم ہوئی تھی اس میں مدن موہن مالوی کی صدارت میں تمام مسلمانوں کو ہندو بنا لینے کی تجویز پاس کی گئی ہے۔اسی طرح ایک جگہ سے خط آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے اس فتنہ ارتداد کی تحقیقات کے لئے کہ یہ کب تک رہے گا ایک کمیٹی قائم ہوئی ہے جس نے دریافت کیا ہے کہ اس وقت ہندوؤں کا ارادہ ہے کہ ہندوستان کی وہ قومیں جو