خطبات محمود (جلد 8) — Page 194
194 33 ملکانہ تحریک اور جماعت احمدیہ (فرموده ۱۴ تمبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔آج کچھ دوست جو تبلیغ کے لئے ملکانہ گئے ہوئے تھے واپس آئے ہیں اور کچھ جانے والے ہیں۔میں نے جس وقت اس کام کو شروع کیا تھا اس وقت کچھ دوستوں کو بلا کر ان سے اس بارے میں مشورہ لیا تھا کہ آیا اس کام میں ہاتھ ڈالا جائے یا نہیں۔اس وقت ایک یا دو دوستوں کی یہ رائے تھی کہ اس کام میں دخل نہ دیا جائے لیکن باقی احباب کی یہی رائے تھی کہ ضرور اس کام کو اپنے ذمہ لیا جائے اور پورے طور پر اسلام کی حفاظت کرنے کے لئے تیاری کرنی چاہئیے۔میرے نزدیک یہ رائے درست تھی لیکن میں نے کئی بار دوہرا دوہرا کر اس امر کو پیش کیا اور بتا دیا کہ اگر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کام کو شروع کیا جائے تو پھر اسے کسی طرح نہیں چھوڑ سکیں گے۔اگر ایک دفعہ اس میدان میں چلے گئے تو پھر ہم نہیں لوٹ سکیں گے۔اور لوگ جائیں گے اور کچھ عرصہ کے بعد چھوڑ چھاڑ کر واپس آجائیں گے لیکن ایک دفعہ اس میدان میں جاکر پھر ہمارے لئے وہاں سے لوٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔نہ شرعا" نہ اخلاقا اور نہ اپنی عزت کے لحاظ سے۔میں نے بار بار کہا کہ اس امر کو پہلے پوری طرح سوچ لو اور سوچنے کے بعد اپنی رائے قائم کرو۔لیکن میری اس تاکید پر دوستوں نے اسی بات پر زور دیا کہ اس کام میں ضرور دخل دینا چاہئیے۔اس مشورہ کے بعد میں نے ایک جلسہ کیا جس میں باقی تمام جماعت کو بھی اس کام کی طرف متوجہ کیا اور اس وقت میں نے توجہ ولائی تھی کہ اس کام کے لئے ہمیں اس قدر طاقت اور ہمت خرچ کرنی پڑے گی کہ اس کے مقابلہ میں ہمارے پہلے کام بالکل معمولی ہونگے۔جس وقت میں نے پہلی تقریر کی تھی اس وقت سلسلہ ارتداد کی پوری حقیقت اور اہمیت نہیں معلوم ہوتی تھی اور لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چند دن کی بات ہے یہاں تک کہ اس میدان میں کام کرنے والوں کا بھی یہ خیال تھا کہ چند دن کے اندر یہ فتنہ فرد ہو جائے گا۔لیکن میں نے اس وقت ہی بتا دیا تھا کہ یہ چند دن کا کام نہیں بلکہ کئی سالوں کا کام ہے۔