خطبات محمود (جلد 8) — Page 181
181 پیچھے چلیں گے۔اب اس کے ذریعہ سے تو بے شک ہم خاص جگہ کو جا رہے ہیں لیکن اس کی وجہ سے نہیں بلکہ اس جگہ کی وجہ سے اس کے پیچھے چل رہے ہیں۔تو یہ ایک ذریعہ ہے اور ایسا شخص جس کے پیچھے ہم چل رہے ہیں وہ ہادی اور رہنما کہلائے گا۔پس رہنما کا تو صرف یہ مطلب ہے کہ وہ بھی وہیں جاتا ہے اور ہم بھی وہیں جاتے ہیں۔فرق اس میں اور ہم میں یہ ہے کہ اس کو کسی طرح سے اس جگہ کا اور رستہ کا پہلے علم ہو گیا ہے۔اور ہمیں علم نہیں ہے اس وجہ سے اس کے پیچھے چلنا پڑتا ہے اور وہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ جس راہ پر وہ جا رہا ہے اگر ہم اس راہ پر نہیں چلیں گے تو منزل مقصود پر ہم نہیں پہنچیں گے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ ہمارے وہاں جانے کے لئے وسیلہ نہیں اور ہم اس کی وجہ سے نہیں جا رہے۔پس نبی جو دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں اور ولی بزرگ دنیا میں آتے ہیں وہ اسی لئے آتے ہیں کہ وہ خدا تک پہنچنے کا رستہ بندوں کو بتائیں۔اس رستہ پر چل کر بندے خدا تعالیٰ تک پہنچیں۔اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ان کی وجہ سے ہم خدا تک پہنچتے ہیں۔خدا کا تعلق تو ہر بندہ سے براہ راست ہے اور درمیان میں کوئی وسیلہ نہیں نہ کوئی نبی وسیلہ ہے نہ کوئی ولی۔میری غرض اس بات کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے عام لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا کیا کام ہے اور کام کس طرح کرنا چاہئیے اور نہ ان کے اندر اس کام کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے۔عام طور پر لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ اصل مقصود انبیاء و اولیاء ہی ہیں اور ہمارا کوئی کام نہیں اور نہ ہمارا خدا کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق ہے۔اس کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ ایک شخص کو عدالت سے آواز آئے تو اس کے دوست بھی دیکھنے کے لئے ساتھ چلے جائیں تو ان کے اندر وہ جوش نہیں ہوگا جو اس صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ ان کو بھی عدالت میں بلایا جائے۔اسی طرح چونکہ عام لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بیٹھا ہوا ہے کہ نبی ہی مقصود ہیں اور ان کو یہ خیال نہیں کہ ہم بھی بلائے گئے ہیں اس لئے ان کے اندر وہ جوش نہیں جو اس صورت میں ہونا چاہئیے جبکہ ان کو یہ خیال ہو کہ انہیں بلایا گیا ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ تمام انبیاء جیسے حضرت ابراہیم موسیٰ و عیسی یا رسول کریم تھے۔یہ اپنے اپنے زمانہ میں چونکہ خدا کی محبت اور اس کے قرب میں بڑھ گئے تھے اس لئے ہمیں ان کے پیچھے چلنا پڑا اور وہ ہمارے ہادی اور رہنما بن گئے۔ورنہ خدا تعالیٰ نے تو کسی کو اپنی طرف بلانے میں فرق نہیں رکھا۔اس نے تو جیسے انبیاء کو بلایا ویسے ہی ہم کو بلایا۔فرق صرف محنت کا ہے۔کسی نے اس کی طرف جانے میں اور اس تک پہنچنے کے لئے زیادہ محنت کی۔اور زیادہ پیارا ہو گیا۔یہ تو ہر شخص کی محنت ہے رسول اللہ نے چونکہ سے بڑھ کر محنت دکھلائی اس لئے وہ خدا تعالیٰ کچھ زیادہ مقرب ہو گئے۔یہ اپنی اپنی محنت ہے۔ورنہ سب