خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 180

180 31 دین کے کام ذاتی لگن اور انہماک سے کریں (فرموده ۳۱ / اگست ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں نے پچھلے سے پچھلے جمعہ میں اس بات کے متعلق کچھ بیان کیا تھا کہ مومن کو دینی کام کس طرح کرنا چاہئیے اور اس میں یہ بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے تمام بنی نوع انسان مخاطب ہیں۔خاص انبیاء ہی اس کے مخاطب نہیں۔شریعت کے تمام احکام ہر ایک انسان کے لئے ہیں۔پھر میں نے بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے اور بندہ میں کوئی وسیلہ نہیں بنانا چاہتا۔وہ کبھی ایسے آدمی کو مبعوث نہیں کرتا جو اس کے اور بندہ کے درمیان وسیلہ ہو۔یہ جو کچھ میں نے بیان کیا تھا۔اس کی موٹی مثال تو یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص دس آدمیوں کی دعوت کرے اور جس محلہ میں وہ دس آدمی رہتے ہوں۔وہاں کے ہی ایک شخص کو ان کے بلانے کے لئے دعوت کرنے والا کہدے۔تو اس شخص کے پیغام کے ذریعہ سے جو آدمی دعوت پر گئے ہوں اس کے یہ معنے نہیں کہ اس کی سفارش سے اور اس کی وجہ سے باقی لوگ دعوت پر گئے ہیں۔لیکن وسیلہ کے عام معنے جو رائج ہیں ان میں اور واسطہ و رہنما میں یہ فرق ہے کہ جیسے کوئی بادشاہ یا حاکم ہو۔اس کے مکان پر کچھ لوگ آئیں۔بادشاہ کی یہ غرض نہ ہو کہ وہ لوگ اس کے مکان پر آئیں۔لیکن ایک شخص بادشاہ کا پیارا ہے۔وہ اس کے پاس سفارش کرتا ہے کہ ان کو آنے دو تو ان کو بادشاہ اپنے مکان پر آنے کے لئے اجازت دے دے گا۔یہ تو وسیلہ ہے اور ہادی و رہنما میں بظاہر تو یہی بات نظر آتی ہے کیونکہ ان کے بتائے ہوئے رستہ پر چلنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی وہ وسیلہ نہیں ہوتے کیونکہ بے شک ان کے بتائے ہوئے رستہ پر تو ہم چلیں گے لیکن یہ نہیں کہ ان کی وجہ سے ہم اس رستہ پر چل کر خدا تک پہنچیں گے بلکہ ہمارا خدا کے ساتھ براہ راست تعلق ہوگا جس کے لئے ہم کو اس رستہ پر چلنا پڑتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کو ایک جگہ معلوم ہو گئی ہے۔وہ اس جگہ کا اور اس کے راستہ کا واقف ہے۔اس جگہ تک پہنچنے کے لئے ہم اس کے پیچھے