خطبات محمود (جلد 8) — Page 172
172 اس جرمانہ سے مستثنیٰ نہ کیا گیا۔اور لطف یہ کہ دوسروں نے تو انکار کر دیا کہ ہم نہیں دیتے۔مگر ہماری جماعت چونکہ قانون کی پابندی اپنا فرض سمجھتی ہے احمدی جاکر اتنا حصہ جرمانہ کا دے آئے اور گورنمنٹ نے شکریہ سے ان کا جرمانہ رکھ لیا۔جتاؤ رولٹ ایکٹ کے متعلق شورش کے زمانہ میں ہم نے کیا کیا تھا۔جس کے بدلہ میں ہمارے آدمیوں سے تاوان وصول کیا گیا۔یہی کہ ہم بھی مسلمان تھے۔اور چونکہ گورنمنٹ نے مسلمانوں پر تاوان لگایا تھا۔اس لئے ہم کو بھی ساتھ ہی رکھ لیا۔پس جبکہ گورنمنٹ کی نظر میں وہ اور ہم ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہیں تو ضروری ہے کہ جب ان کو نقصان پہنچے اس وقت ہم کو بھی پہنچے۔جب گورنمنٹ باوجود اس اقرار کے کہ احمدی جماعت اس شورش میں شامل نہیں ہوئی۔اپنی کسی مصلحت کے ماتحت جو ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔اور کسی انسان کی عقل میں بھی نہیں آسکتی۔ہمارے آدمیوں کو بھی دوسروں کے ساتھ پھنساتی ہے تو ایسی حالت میں ہمارا حق ہے کہ دوسروں کو سمجھائیں۔اور نقصان اٹھانے سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔پس ہمارا حق تھا۔اور ہم نے اس وقت بھی سمجھایا مگر لوگ نادانی سے یہ خیال کرتے رہے کہ ہم گورنمنٹ کے ایجنٹ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مفت بھی ایجنٹ ہوا کرتا ہے اور نہ صرف مفت بلکہ ایسا ایجنٹ بھی جس کو ادھر سے مار پڑے اور ادھر سے بھی۔کیا کوئی ایجنٹ اس لئے کسی کی نوکری کیا کرتا ہے کہ تم بھی مارو اور تمہارے دشمن بھی ماریں۔اگر نہیں تو بتاؤ گورنمنٹ نے ہمیں کیا دیا ہے۔سب سے زیادہ گورنمنٹ کی تائید میں لکھنے والا تو میں ہوں۔اگر میں گورنمنٹ کی تائید ذاتی یا قومی فوائد کے لئے کرتا ہوں تو یہ دیکھنا چاہئیے کہ میں نے یا میرے خاندان نے گورنمنٹ سے کیا حاصل کیا ہے۔میں تو گورنمنٹ کے بڑے سے بڑے انعام کو بھی اس کے مقابلہ میں نہایت ہی ادنی سمجھتا ہوں جو مجھے خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔مگر لوگ گورنمنٹ کے خطاب کو بڑا سمجھتے ہیں۔کیا میں نے گورنمنٹ سے کوئی خطاب لیا ہے۔پھر لوگ عہدہ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اس کے لئے خوشامد کرتے ہیں۔کیا میں نے کسی رشتہ دار کو گورنمنٹ کا نوکر کرایا ہے۔پھر لوگ اس لئے خوشامد کرتے ہیں کہ زمین ملے۔کیا میں نے گورنمنٹ سے زمین لی ہے۔پھر لوگ اس لئے خوشامد کرتے ہیں کہ کرسی نشین ہو جائیں۔کیا میں نے کبھی، ایسی خواہش کی ہے۔یہ تو ذاتی اور خاندانی فوائد کے متعلق ہے۔رہا قومی فائدہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔تو کیا ہوا۔قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہو۔میں کہتا ہوں ہماری قوم سے مراد احمدی ہیں مغل نہیں۔کیونکہ جو مغل احمدی نہیں وہ تو ہماری جان کے دشمن ہیں۔احمدی قوم کو گورنمنٹ نے کونسا ایسا انعام دے دیا ہے۔جو دوسروں کو نہیں دیا۔بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے دوسروں کے فساد کرنے پر گورنمنٹ احمدیوں پر جرمانہ کرنے کے لئے تو تیار ہو گئی۔گورنمنٹ نے اس موقع پر عیسائیوں کو چھوڑ دیا۔