خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 138

138 شخص مولوی کہلاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں کہ مولوی کیا ہوتا ہے تو لوگوں کے کہنے پر خوش ہو تا رہے گا۔لیکن اگر اسے پتہ ہو کہ مولوی اسے کہتے ہیں جو قرآن اور حدیث سے واقف ہو۔تو کسی کے مولوی کہنے پر اسے شرم آئے گی۔اور اس کے نفس میں سوال پیدا ہو گا کہ مجھے ایسی واقفیت پیدا کرنی چاہئیے کہ میں مولوی کہلا سکوں۔اگر یہ سوال پیدا ہو کہ مسلم کیا ہوتا ہے۔تو پھر اس کے حل کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہو سکے گی۔لیکن افسوس ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ توجہ نہیں پیدا ہوتی اور اگر پیدا ہوتی ہے تو حل نہیں کرتے اور اگر حل کرنا چاہتے ہیں تو بہت لوگ حل نہیں کر سکتے۔اور جب حل نہیں کر سکتے تو ان میں یہ جرأت نہیں ہوتی کہ دوسروں سے پوچھیں اور اگر دوسروں سے پوچھنے کی جرات کر بھی لیتے ہیں اور حل کر بھی لیتے ہیں تو ان میں یہ جرأت نہیں ہوتی کہ حل شدہ امر کے مطابق عمل کریں۔ان کی ایسی ہی حالت ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں بدصورت انسان آئینہ نہیں دیکھتا۔خوبصورت تو بار بار دیکھتے رہتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی داغ یا دھبہ لگ گیا ہو تو صاف کر دیں۔لیکن بدصورت سمجھتا ہے داغ اور وصبہ کا لگا رہنا اچھا ہے بہ نسبت اس تکلیف اور صدمہ کے جو مجھے اپنی بدصورتی دیکھنے سے ہوگا۔اسی طرح جن لوگوں کا نفس بدصورت ہوتا ہے۔وہ اس کا مطالعہ نہیں کرتے۔اور جن کا خوبصورت ہوتا ہے وہ مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔مگر وہ لوگ جو اپنے نفس کی بدصورتی کی وجہ سے اس کا مطالعہ نہیں کرتے وہ بتائیں کیا اگر پاخانہ کو ڈھانپ دیا جائے تو گند دور ہو جاتا ہے یا کبوتر اپنی آنکھیں بند کر لینے کی وجہ سے بلی کے حملہ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ہرگز نہیں۔نہ گند دور ہوتا ہے نہ کبوتر محفوظ ہو سکتا ہے۔وہ دھوکہ میں ہوتا ہے اور پلی اسے کھا جاتی ہے۔اسی طرح اگر کوئی پاخانہ پر راکھ ڈالکر سمجھتا ہے کہ صاف ہو گیا تو وہ بھی دھوکہ میں ہے اور اس طرح اس کے گھر کے لوگ بیمار ہو جائیں گے۔یا نجاست کپڑوں سے لگ کر انہیں خراب کر دے گی اور عبادت خراب ہوگی۔تو یہ جو سوال ہے کہ کیا ہم مسلم ہیں یہ بہت ضروری ہے مگر افسوس بہت سے لوگ اسے حل نہیں کرتے یا حل نہیں کرنا چاہتے یا کر نہیں سکتے۔میں بہت لوگوں کو دیکھتا ہوں دین کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔اور ایسی قربانیاں کرتے ہیں جو قابل رشک ہوتی ہیں۔بہت ہیں جو دین کے لئے تکالیف اٹھاتے ہیں اور اس قدر اٹھاتے ہیں کہ ان کے لئے دل کڑھتا ہے کہ کس طرح ان کی مدد کی جائے بہت ہیں جو دین کے لئے محنتیں کرتے ہیں اور پھر ان کی محنتوں کو دیکھ کر ان پر رشک آتا ہے مگر یہی لوگ بعض اوقات ذرا سے نفسانیت کے جوش میں آکر ساری خوشی اور راحت کو برباد کر دیتے ہیں اور وہی حالت ہو جاتی ہے جیسا کہ ایک شاعر نے بیان کی ہے۔خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا اور یہی معلوم ہوتا ہے کہ جسے خوبصورت سمجھا گیا تھا وہ اندر سے نہایت ہی بدصورت ثابت ہوا اور