خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 133

133 دل میں یہ سوال پیدا ہو گا اور ہونا چاہئیے کہ ایک ہندو اور غیر مذہب والے میں کیا فرق ہے۔اسی طرح ایک عیسائی کے دل میں یہ سوال پیدا ہونا چاہئیے کہ ایک عیسائی اور غیر عیسائی میں کیا فرق ہے۔اسی طرح ہر مذہب والے کے دل میں یہ سوال اور رنگ میں پیدا ہونا چاہئیے مگر میں اسی رنگ کو لیتا ہوں جو مسلم کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مسلم اور غیر مسلم میں کیا فرق ہے ہم بحیثیت مسلمان اوروں سے جو قسم قسم کے جھگڑے کرتے ہیں۔ابھی ملکانوں کی شدھی کا معالمہ ہے ہم جاکر ان سے ملتے اپنے مال خرچ کرتے اور ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ مرتد نہ ہوں اور اس کے لئے شدھی کرنے والوں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔یہ کیوں کر رہے ہیں۔کیا ملکانے اس حالت سے بدل گئے جس پر وہ پہلے تھے۔کیا ان کی عقل شکل اور علم میں کچھ فرق آگیا۔اگر نہیں تو ہم انہیں کیوں سمجھاتے اور اپنا روپیہ خرچ کر رہے ہیں یا اور لوگوں کو جو تبلیغ کرتے ہیں کبھی ماریں کھاتے ہیں کبھی مال کا نقصان اٹھاتے ہیں۔اپنے عزیزوں سے الگ ہوتے ہیں۔یہ سب کچھ کیوں کرتے ہیں۔اس کا موٹا جواب تو یہی ہے کہ لوگ اسلام قبول کرلیں اور مسلمان ہو جائیں مگر اس کے ساتھ معا یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے اور پیدا ہونا چاہئیے کہ لوگ کیوں مسلمان ہو جائیں ہندو کیوں نہ رہیں یا کیوں ہندو ہو جائیں۔تم میں کیا بات ہے اور تم کو کون سا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے کہ تمہارا مذہب قبول کر لیں اور کیوں تمہیں ہر قسم کی قربانی اس لئے کر دینی چاہئیے کہ لوگ مسلمان رہیں یا مسلمان بنیں۔اس کے جواب مختلف رنگوں میں مختلف دئے جا سکتے ہیں۔مثلاً یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا ہے۔وہ بھی مان لیں۔مگر میرے نزدیک یہ کوئی جواب نہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کے میری تھیلی میں زیادہ روپیہ ہے کیونکہ مجھے مکہ سے ملی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کا کیا مطلب ہے؟ یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ لائے ہیں۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا لائے ہیں۔ایک چٹھی رساں بہت شریف ہوتا ہے۔اور دوسرا اس سے کم۔تو کیا جو زیادہ شریف ہو اس کی لائی ہوئی چٹھی زیادہ معزز ہوگی اس سے جو کم شریف چٹھی رساں لائے اور اس پر زیادہ فخر کیا جا سکتا ہے۔نہیں تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ کسی چیز کامل جانا شرف کی بات نہیں جب تک کہ وہ جو کچھ کہ ملا۔اعلیٰ نہ ہو اور دوسروں کی نسبت بالا نہ ہو۔شرف کا موجب تبھی ہو سکتا ہے جبکہ بالا ہو۔پھر شاید کوئی کہے۔چونکہ ہم خدا کے لئے نمازیں پڑھتے ہیں اس لئے اوروں کو بھی مسلمان ہو کر خدا کی عبادت کرنی چاہئیے۔مگر یہ بھی درست نہیں کیونکہ دوسرے مذاہب والے بھی اپنے اپنے رنگ میں عبادتیں کرتے ہیں اور ظاہری طور پر ان کی عبادتیں زیادہ مشکل اور مشقت طلب ہوتی ہیں۔