خطبات محمود (جلد 8) — Page 125
125 ان کا بیٹا ہوں۔یہ سن کر انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور کہا مجھے آپ سے ملاقات کرنے کا بڑا شوق تھا۔بعد میں معلوم ہوا انہیں شوق تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا ایک احمدی سے مقدمہ تھا جس کے لئے سفارش کرانا چاہتے تھے۔وہ میرے پاس میوہ لے آئے اور کہا کھائیں۔میری طبیعت تو یوں بھی متنفر تھی کیونکہ ایک دفعہ حضرت صاحب سیالکوٹ گئے۔تو ان پیر صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ جو ان کے لیکچر میں جائے گا۔وہ کافر ہو جائے گا اور اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔مگر خدا نے ایک وجہ بھی بنادی کہ مجھے نزلہ تھا اور وہ ترشی والی چیزیں تھیں جو میں کھا نہیں سکتا تھا۔میں نے معذوری ظاہر کی۔اس پر انہوں نے سمجھا پیری دکھانے کا یہی وقت ہے۔کہنے لگے کہ آپ بھی ایسی باتیں کرتے ہیں جو خدا چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔نزلہ کیا ہے۔میں نے سمجھا لمبی بحث کرنے کا تو یہ موقع نہیں اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہوگا مختصر جواب دینا چاہئیے۔میں نے کہا اگر آپ یہ بات پہلے جاتے تو پیسے بچ جاتے۔کہنے لگے کس طرح۔میں نے کہا ٹکٹ نہ لیتے۔اگر آپ کو خدا نے امرتسر پہنچانا ہوتا اور مجھے بٹالے تو خود پہنچا دیتا۔کہنے لگے اسباب بھی تو ضروری ہیں۔میں نے کہا یہی اسباب مجھے بھی مد نظر ہیں۔تو بعض لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ کوئی کام جس طرح خدا نے کرنا ہوتا ہے اس طرح ہو جاتا ہے انسانی کوشش کا اس میں کوئی دخل نہیں ہو تا مگر یہ غلط ہے۔کبھی کوئی دینی یا دنیوی کام نہیں ہو سکتا جب تک انسان ان تدابیر پر عمل نہ کرے جو خدا نے مقرر کی ہیں۔تقدیر یہ نہیں ہوتی کہ یہ کام ہو جائے بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس طرح کرو گے تو یہ کام ہو گا۔اور نہ کرو گے تو نہ ہو گا۔کہتے ہیں کسی بزرگ کے پاس ایک شخص گیا اور کہا دعا کریں میرے گھر اولاد ہو۔انہوں نے کہا ہاں دعا کریں گے۔وہ چل پڑا اور جدھر سے آیا تھا ادھر نہیں بلکہ دوسری طرف۔انہوں نے پوچھا کدھر جارہے ہو۔اس نے کہا میں چھ سال کے بعد ملازمت سے آیا تھا اب پھر جا رہا ہوں۔انہوں نے کہا۔تم تو بیوی کو چھوڑ کر نوکری پر جارہے ہو میری دعائیں کیا کریں گی۔جب تک میاں بیوی کے تعلقات نہ ہوں اولاد کیونکر دعا کے ذریعہ پیدا ہو جائے۔تو یہ غلط خیال ہے کہ جو خدا کی مرضی ہو گی وہ ہو جائے گا ہمیں کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ دینی باتوں میں بھی غلط ہے اور دنیوی میں بھی۔یہ اور بات ہے کہ وہ کام ہو جائے گا مگر یہ ضروری نہیں کہ تمہارے ہی ہاتھوں ہو جبکہ تم ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھے رہو۔ہو سکتا ہے کہ ان طریق اور تدابیر پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے جو خدا نے اس کام کے ہونے کے لئے رکھی ہیں خدا تم کو ہلاک کر کے اور قوم کو کھڑا کر دے اور اس کے ذریعہ کام ہو۔پس خوب یاد رکھو کہ کوئی تقدیر ایسی نہیں کہ فلاں کام ضرور ہو جائے گا چاہے کوئی اسے کرے یا نہ کرے۔