خطبات محمود (جلد 8) — Page 120
120 علاج کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور وہ صحت یاب نہیں ہوتا۔ایسی صورت میں وہ کہتے ہیں چلو ٹونے ٹوٹکے ہی کر دیکھو۔اس وقت کوئی ایسی بڑھیا جو اتنا بھی نہ جانتی ہو کہ طب کا لفظ ط اور ب کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔جسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ دل کہاں ہوتا ہے اور جگر کہا۔وہ سل یا اور اسی قسم کی خطرناک بیماری (جس کا پتہ لگانا ڈاکٹروں کے لئے بھی بہت مشکل ہوتا ہے) کے متعلق کہتی ہے کہ یہ دوا دو تو وہی دے دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں بیمار مرتو یوں بھی رہا ہے اگر یہ دوائی مفید نہ ہوئی تو اس سے زیادہ اور کیا ہو جائے گا چلو یہ بھی دے دو۔شاید اسی سے اچھا ہو جائے۔ورنہ موت سے بڑھ کر تو یہ دوائی کچھ نہ کرے گی اور موت پہلے ہی نظر آرہی ہے۔اس طرح وہ قوم جو ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گری ہوئی ہو یا سمجھتی ہو کہ گری ہوئی ہے۔اس کے پاس جب کوئی ایسا شخص جاتا ہے جو اسے اٹھانے کا دم بھرتا ہے تو خواہ وہ کیسی ہی نادانی کی بات کے وہ قوم یہی کہتی ہے کہ مرتو ہم پہلے ہی رہے ہیں آؤ اس کی بات بھی مان لیں۔اس طرح وہ ملک جو تباہی اور ہلاکت میں پڑا ہو وہ بھی سمجھتا ہے کہ تباہ تو ہم پہلے ہی ہو رہے ہیں آؤ جو کچھ کوئی کہتا ہے اس کی بات بھی مان کر دیکھ لیں۔ایسی صورت میں لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ جو کچھ کوئی کہتا ہے وہ عقل کی بات ہے یا نہیں۔اور اس پر عمل کرنے سے فائدہ ممکن ہے یا نہیں۔بلکہ اس بیمار کی طرح جسے اپنی زندگی کی کوئی امید نہیں رہتی جو کچھ کوئی کہتا ہے اپنی حریت کے لئے مان لیتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو کچھ کہا گیا وہ کسی انسانی عقل میں نہیں آسکتا تھا کہ وہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کیونکہ مذہب کے لحاظ سے دنیا میں ایسے مذاہب ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مذہب کی اصل حقیقت کو پاگئے جیسے یورپ کے نئے نئے مذاہب ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ہم دنیا کو بچائیں گے اور ہمارے ذریعہ ہی مذہب کی اصل غرض پوری ہو سکتی ہے۔اور اگر ممالک کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایسی قومیں بن رہی ہیں جو ترقی کی انتہائی حد کو پہنچی ہوئی ہیں جیسے امریکہ والے۔وہ کہتے ہیں نہ صرف ہم ترقی کے انتہائی نقطہ پر پہنچ چکے ہیں بلکہ ہم دنیا کو بھی انتہائی درجہ پر لے جائیں گے حتی کہ وہ کہتے ہیں آئندہ نئی قسم کا انسان۔امریکہ سے ہی پیدا ہو گا۔اور اس کے لئے انہوں نے علاقہ بھی مقرر کر دیا ہے۔جو کیلفورنیا ہے۔کہتے ہیں اس علاقہ کے لوگوں کا دماغ بہت ہی اعلیٰ ہے اور ان کی نسلیں ان سے بڑھ کر ہوں گی اور ان کی نسلیں ان سے بڑھ کر حتی کہ ایک نئی قسم کا انسان پیدا ہو جائے گا جو موجودہ انسانوں سے مختلف اور نہایت مکمل ہو گا۔تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اتنا عروج حاصل کر لیا ہے کہ کوئی طاقت ہمیں ہلاک کر ہی نہیں سکتی۔اور وہ یہ نہیں کہتے کہ ہمیں انسانی مصائب کے دور کرنے کا طریق معلوم نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ہی دنیا کے مصائب دور کریں گے۔مگر دیکھو خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود کو کہتا ہے کہ وہ بھی تجھے مانیں گے۔