خطبات محمود (جلد 8) — Page 118
118 ہے خدا نے مجھے کہا ہے ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔یہ نہیں کہا کہ میں تیری تبلیغ کو پہنچاؤں گا۔نہ یہ کہا کہ تیرے اہل ملک تک پہنچاؤں گا۔اور نہ یہ کہا کہ تیرے ہم مذہب تجھے مان لیں گے بلکہ یہ کہا کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا یعنی کوئی علاقہ کوئی قوم اور کوئی مذہب مخصوص نہیں کیا جاتا۔یہ نہیں کہا جاتا کہ مسلمان کہلانے والے تجھے مان لیں گے کیونکہ اگر یہ کہا جاتا تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ چونکہ اس وقت مسلمان محتاج ہیں ایک لیڈر کے۔ان میں تفرقہ اور فساد برپا ہے وہ غربت اور فقر کی حالت میں مبتلا ہیں ان پر ذلت اور مسکنت کی چادر چھائی ہوئی ہے۔ایسے وقت میں وہ کسی ایسے انسان کی راہ دیکھ رہے ہیں جو آئے اور آکر ان کی دنیاوی حالت درست کرنے کے ساتھ ہی خدا کا قرب بھی حاصل کرائے۔اس لئے ممکن ہے کہ اس کی قوم اسے مان لے۔مگر یہ نہیں کہا گیا۔اسی طرح یہ بھی نہیں کہا گیا کہ فلاں قوم تک تیری تبلیغ پہنچاؤں گا کیونکہ بہت سی قومیں ایسی ہیں جو ذلت اور ادبار میں گرفتار ہونے کی وجہ سے تیار ہیں کہ کوئی شخص ان کی حالت کو بہتر بنانے کا دعوے دار بن کر کھڑا ہو۔اور وہ اس کے پیچھے لگیں۔پھر یہ بھی نہیں کہا جاتا کہ تیرے ملک میں تیرے نام کو پھیلا دوں گا۔کیونکہ بہت سے ملک اس بات کے لئے تیار ہیں کہ ان کو ترقی دینے کے نام سے کوئی کھڑا ہو اور وہ اس کے ساتھ مل جائیں۔جیسے یہ ہندوستان ہی ہے۔اس میں اگر کوئی کھڑا ہو کہ میں اسے آزاد کراؤں گا تو لوگ اس کے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اور ان کے دل میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ انگریز ان پر ظلم کرتے ہیں۔انگریز ظلم کرتے ہیں یا نہیں۔لیکن چونکہ ان کے خیال میں ایسا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں اس لئے ہر اس انسان کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر عقل و فکر سے کام لئے چلنے کے لئے تیار ہیں جو یہ کہے کہ میں عنقریب تم کو حکومت دلادوں گا۔جیسے مسٹر گاندھی نے کہا۔یہ قطعا" عقل کے خلاف بات تھی کہ چند ماہ کے اندر اندر کوئی حکومت ولا سکتا۔لیکن مسٹر گاندھی کہتا تھا کہ دسمبر تک ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرالوں گا۔مگر شرط یہ ہے کہ میں جو کچھ کہوں وہ کرو۔اس پر ہندو مسلمان غلاموں کی طرح اس کے پیچھے چل پڑے۔مگر چند ماہ کے بعد کیا ہوا۔یہ کہ وہ جو کہتا تھا میں ہندوستان کو آزاد کرادوں گا۔اس کی اپنی آزادی بھی چھین لی گئی۔وہ خود جیل میں چلا گیا اور بقول اس کے ہندوستان کے ۳۳ کروڑ باشندے غلام کے غلام ہی رہے۔اس کی ایسی خلاف عقل بات لوگوں نے کیوں مان لی۔اس لئے کہ ان کے قلوب تیار تھے کہ ایسی بات مان لیں اور انہوں نے سوچے سمجھے بغیر مان لی۔پس اگر یہ کہا جاتا کہ تیرا ملک تیری تبلیغ کو مان لے گا۔تو کہا جا سکتا کہ ان لوگوں میں پہلے ہی اس قسم کے سیاسی جذبات پیدا ہو چکے تھے کہ وہ منتظر تھے کہ کوئی آئے اور آگر انہیں آزاد کرانے کی آواز لگائے۔چونکہ ایسے موقع پر مرزا صاحب کھڑے ہو گئے اس لئے ان کے