خطبات محمود (جلد 8) — Page 110
110 تعالیٰ کا معالمہ اس کے الٹ ہے۔انسان اللہ تعالیٰ کا پیارا اور محبوب نہیں بن سکتا جب تک وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر نہیں لیتا۔اس بات کو اگر یہ نظر نہ رکھا جائے تو بہت سے نقائص اور فسادات پیدا ہوتے ہیں۔مسلمانوں نے خلافت کے سوال کو چھیڑا۔ہم ان طریقوں کے مخالف تھے جو وہ خلافت کے سوال کو حل کرنے کے لئے برتتے تھے۔مگر ہمیں ان سے ہمدردی تھی کہ وہ ان کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت یہ رو چل رہی تھی کہ جو مسئلہ خلافت میں ہمارے ساتھ نہیں ہوتا اس کو مٹا دینا چاہئیے۔وہ نہیں دیکھتے تھے کہ باقی کتنی باتوں میں ہم اور باقی دوسرے لوگ بھی ان کے موافق تھے۔ہم نے کہا کہ ہم آدمی روپیہ سامان اسلام اور حکومت لڑکی کی موافقت میں تبلیغ کے لئے دینے کو تیار ہیں۔مگر ہم سلطان لڑکی کو اپنا خلیفہ نہیں مان سکتے لیکن مسلمانوں نے اس بات کو نہ مانا اور ہمارے متعلق اپنے غضب اور ناراضگی کو غیر محدود کر دیا۔اور کہا کہ ان کو مٹا دو۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدی شیعہ وغیرہ الگ ہو گئے۔اس لئے ان کا سلوک گورنمنٹ سے بھی ایسا ہی رہا۔لیکن انہوں نے جوش میں کچھ نہ سوچا۔مگر ہمیں ان سے ہمدردی ہی رہی کیونکہ حضرت مسیح موعود فرما چکے تھے۔اے دل تو نیز خاطر ایتاں نگاہدار کا خر کنند دعوی حب پیمبرم محمد رسول اللہ کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا لحاظ کیا اور ان کی حالت پر رحم کر کے جلدی ہی ان کی آنکھیں کھول دیں کہ ان کا راستہ غلط ہے۔اب میں دیکھتا ہوں کہ ایک اور غلطی شروع ہو رہی ہے۔ہندوؤں میں اور ہم میں ایک اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ہندوؤں میں اور مسلمانوں میں لوگ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ یہ اختلاف صرف ایک بات میں ہے۔وہ اس اختلاف کو تمام باتوں پر حاوی کرنا چاہتے ہیں۔ہندو اس بات سے شاکی ہیں کہ مسلمان کیوں اپنے حقوق مانگتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ واقعہ میں وہ حقوق ہیں بھی یا نہیں۔لیکن انہوں نے اس پروٹسٹ میں مسلمانوں کی ہر معاملہ میں مخالفت شروع کر دی ہے۔جس کا نتیجہ فسادات ملتان وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوا۔شدھی تحریک میں ایک بہت بڑا انکشاف ہوا ہے۔ملکانے اس لئے بھی ہندو ہو رہے ہیں کہ ہندو چونکہ مسلمانوں کے ہاتھ کا نہیں کھاتے اور مسلمان ہندوؤں کے ہاتھ کا کھا لیتے ہیں۔اس لئے معلوم ہوا کہ ہندو مسلمانوں سے زیادہ معزز ہیں۔اس لئے وہ ہندوؤں کو معزز سمجھ کر ہندو ہو رہے ہیں۔حالانکہ ویدوں میں چھوت چھات کا کہیں ذکر نہیں۔وہ تو گائے کے کباب کو بھی جائز قرار دیتے ہیں اور گائے کے کباب کو ہندوستان میں پہلے استعمال کیا بھی گیا ہے۔لیکن کسی نہ کسی طرح سے انہوں