خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 69

69 12 کیا ہم اپنے عہد پر استوار ہیں ؟ (فرموده ۱۳/ اپریل ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں بوجہ بیماری کے نہ زیادہ اور نہ اونچا بول سکتا ہوں۔مگر میری ذمہ داری بہت بڑی ہے جو مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں آپ لوگوں کو ان فرائض کی طرف توجہ دلاؤں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر لگائے گئے ہیں۔ہم لوگ مسلمان ہیں اور پھر ہم احمدی ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اسلام کی وہ حقیقت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا پر واضح اور ظاہر فرمائی اور بعد میں وہ دنیا سے مخفی ہو گئی۔حضرت احمد علیہ السلام کے ذریعہ سے پھر ہم کو نصیب ہوئی۔اور ہم نے اس کو پایا۔بلحاظ مسلمان اور احمدی ہونے کے ہم وثوق رکھتے ہیں کہ جس خدا کو ہم مانتے ہیں وہ زندہ ہے مردہ نہیں۔ہم کسی قوم کی طرح یہ نہیں کہتے کہ خدا پہلے بولتا تھا مگر اب نہیں بولتا۔ہم دوسری قوموں کی طرح یہ نہیں کہتے کہ کسی وقت اللہ کے قرب کے دروازے کھلے تھے مگر اب نہیں۔ہم دوسری قوموں کی طرح یہ بھی نہیں کہتے کہ کسی زمانہ میں خدا کی قدرتیں ظاہر ہوتی تھیں مگر اب نہیں۔ہم دوسری قوموں کی طرح یہ نہیں مانتے کہ خدا تعالیٰ نے قانون قدرت بنا کر خود دست کشی کر لی ہے۔اور اب معطل ہو بیٹھا ہے۔ہم نہ تو بعض نادان اور جاہل قوموں کی طرح خدا کو بندوں کی طرح محدود اور مقید مانتے ہیں اور اس کے لئے مرنا اور پیدا ہونا اور کھانا پینا تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات کبھی نہ تھیں۔اب ہو گئی ہیں۔بلکہ ہم اس کی صفات ہمیشہ سے مانتے ہیں۔ہم یہ مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات بیٹا پیدا کرنے سے پاک ہے کسی انسانی یا حیوانی وجود کا جامہ پہننا اس کی شان کے برخلاف ہے۔مخلوق کے سامنے اگر آتا ہے تو جلال، جلوہ نمائی ، قدرت اور طاقتوری کے اظہار سے آتا ہے نہ انسانی جامہ میں ہو کر۔