خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 6

6 (2) سورہ فاتحہ کی اہمیت (فرموده ۱۲ار جنوری ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ پہلے تو میں اس بات کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ گو کھانسی کی ابھی مجھے شکایت ہے لیکن چونکہ یہ شکایت لمبی ہو گئی ہے اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سردیوں میں کھانسی کی شکایت ہو تو لمبی ہوتی ہے۔ ادھر درس میں بھی لمبا وقفہ ہوتا جاتا ہے۔ اس لئے ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کل سے عصر کے بعد درس قرآن شروع کر دوں۔ اس کے بعد تمام دوستوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ سورہ فاتحہ ایک ایسا مضمون ہے جس کے اوپر اسلام نے اس قدر زور دیا ہے کہ شاید ہی کسی اور مذہب کی کسی تعلیم پر اتنا زور دیا گیا ہو۔ آخر ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے نزدیک اپنے مذہب کی کوئی نہ کوئی بات خصوصیت رکھتی ہے۔ مثلاً عیسائی کفارہ اور نجات پر بہت زور دیتے ہیں اور اس کو اپنے مذہب کی نہایت اہم اور ضروری تعلیم سمجھتے ہیں۔ یا ہندو نتائخ اور پچھلے جنموں کی سزا و جزا بھگتنے اور جنموں سے چھٹنے کی کوشش، اہم تعلیم قرار دیتے ہیں۔ اسلام نے کلمہ شہادت پر بڑا زور دیا ہے اور اس کو ایمان کی جڑ قرار دیا ہے لیکن یہ کیا بات ہے کہ کلمہ شہادت کے پڑھنے پر اتنا زور نہیں دیا گیا جتنا سورہ فاتحہ کے پڑھنے پر دیا گیا ہے۔ سفن کو اگر چھوڑ دیا جائے تو یوں سمجھنا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۱۷ دفعہ روزانہ اس تعلیم کے بطور فرض پڑھنے کا حکم ہوا۔ وتر جو واجب ہیں۔ ان کو ملا لیا جائے۔ تو ہیں مرتبہ روزانہ پڑھنے کا حکم ہوا۔ پھر سفن جن کی تعیین رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ہوئی ہے۔ ان کی ادنی تعداد کو اگر شامل کیا جائے تو دس اور ملا کر ۳۰ دفعہ روزانہ بن گئی۔ اور اگر سنن کی اعلیٰ مقدار شامل کی جائے تو پھر ۳۴ دفعہ ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ نوافل جو نهایت پسندیدہ ہیں اور جن پر قرآن کریم نے بھی زور دیا ہے۔ ان کو ملا لیا جائے تو ۴۲ دفعہ اور اگر وہ نوافل جو عموماً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ ملا لئے جائیں تو پھر پوری پچاس دفعہ